نیشنل ہیلتھ سروس کا ’پروپرانولول‘ استعمال کرنے والے دل کے مریضوں کے لیے اہم انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے دل کے امراض میں مبتلا ان ہزاروں مریضوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ جاری کیا ہے جو عام طور پر استعمال ہونے والی دوا پروپرانولول (Propranolol) لے رہے ہیں۔ اس دوا کے کچھ مضر اثرات خون اور گردوں سے متعلق سنگین مسائل کی علامت ہو سکتے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ پر جاری ہدایت کے مطابق اگر مریضوں میں جلد یا آنکھوں کا پیلا پڑ جانا یا 10 منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی ناک سے خون بہنا جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ہنگامی طبی امداد حاصل کی جائے۔
مزید پڑھیں: چکوال، ٹریفک چالان پر شہری دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق
پروپرانولول ایک بیٹا بلاکر دوا ہے جو دل کی مختلف بیماریوں، بلند فشارِ خون، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، مائیگرین سے بچاؤ اور بے چینی (اینزائٹی) کی جسمانی علامات جیسے پسینہ آنا اور کپکپی کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا دل کی رفتار کو سست کرکے دل کو جسم میں خون پمپ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
@micropharm 5 things to know about propranolol #fyp #foryoupage #pharmacy #medicine ♬ original sound – Yasir Sacranieیہ دوا صرف ڈاکٹر کے نسخے پر دستیاب ہے اور عموماً دن میں ایک مرتبہ لی جاتی ہے، جو عام یا سلو ریلیز (آہستہ اثر کرنے والی) شکل میں ہو سکتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق زیادہ تر افراد کو اس دوا سے معمولی یا کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے، تاہم علاج کے آغاز میں کچھ لوگوں کو سائیڈ ایفیکٹس کا سامنا ہو سکتا ہے جو وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں۔
این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے زیادہ تر افراد یہ دوا استعمال کر سکتے ہیں، تاہم جن مریضوں کو پہلے سے کم بلڈ پریشر، دل کی کمزوری، ڈپریشن یا ذیابیطس جیسی بیماریوں کا سامنا رہا ہو، ان کے لیے خوراک میں تبدیلی یا متبادل دوا تجویز کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بزدل! میں انتظار کررہا ہوں، آؤ مجھے گرفتار کرو، وینزویلا کے صدر مادورو کی پرانی ویڈیو وائرل
ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پروپرانولول کا استعمال اچانک بند نہ کریں کیونکہ اس سے سینے میں درد (انجائنا) یا حتیٰ کہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
این ایچ ایس نے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی غیر معمولی یا سنگین علامت کی صورت میں فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پروپرانولول‘ NHS Propranolol نیشنل ہیلتھ سروس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیشنل ہیلتھ سروس ایچ ایس کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔