جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کےلیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جسم کو فِٹ رکھتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں سے بچاؤ اور وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 18 سے 64 سال کی عمر کے افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی ورزش یا 75 منٹ سخت ورزش کرنا چاہیے، یا پھر دونوں کا مناسب امتزاج اپنانا چاہیے۔ ایسے میں اکثر لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ رسی کودنا بہتر ہے یا دوڑ لگانا۔

دونوں ہی ورزشیں کارڈیو کے زمرے میں آتی ہیں اور دل کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں، تاہم کون سی ورزش آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے، اس کا انحصار آپ کے مقصد، وقت، سہولت اور جسمانی حالت پر ہوتا ہے۔ کچھ افراد کم وقت اور محدود جگہ میں شدید ورزش کے لیے رسی کودنا پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ برداشت بڑھانے اور کھلی فضا سے لطف اندوز ہونے کے لیے دوڑ کو ترجیح دیتے ہیں۔

کیلوریز جلانے اور وزن کم کرنے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں ورزشیں مؤثر ہیں، تاہم رسی کودنے سے عموماً کچھ زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق رسی کودنے سے فی منٹ تقریباً 14 سے 16 کیلوریز جل سکتی ہیں، جبکہ دوڑ لگانے سے 12 سے 14 کیلوریز جلتی ہیں۔ البتہ رفتار اور جسمانی وزن اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی کمی کی صورت میں رسی کودنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دل، پھیپھڑوں اور مجموعی برداشت کی بہتری کےلیے بھی دونوں ورزشیں مؤثر ہیں۔ دوڑ لگانا خاص طور پر دل کی صحت اور طویل عمر سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جبکہ تحقیق کے مطابق باقاعدہ دوڑ سے مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ 
دوسری جانب مناسب رفتار سے رسی کودنا بھی دل کے لیے اتنا ہی مؤثر ہو سکتا ہے جتنا آٹھ منٹ فی میل کی رفتار سے دوڑ لگانا۔

جوڑوں اور ہڈیوں پر اثرات کے اعتبار سے دونوں ہی وزن برداشت کرنے والی ورزشیں ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ تاہم دوڑ میں زمین سے بار بار ٹکراؤ کی وجہ سے گھٹنوں، کولہوں اور پیروں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر رسی کودتے وقت نرم سطح اور مناسب تکنیک اپنائی جائے تو جوڑوں پر کم دباؤ پڑتا ہے اور پٹھے ار اعصاب مضبوط ہوتے ہیں۔

پٹھوں کی شمولیت کے لحاظ سے رسی کودنے میں جسم کے زیادہ حصے متحرک ہوتے ہیں، جن میں پنڈلیاں، رانیں، کندھے، بازو اور کور مسلز شامل ہیں۔ دوڑ لگانا زیادہ تر نچلے دھڑ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے اور ٹانگوں کی برداشت کو بہتر بناتا ہے، مگر اس میں اوپری جسم کی شمولیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

وقت اور سہولت کے معاملے میں رسی کودنا سبقت لے جاتا ہے، کیونکہ ایک چھوٹی سی رسی کم جگہ میں بھی 10 سے 20 منٹ کی مؤثر ورزش ممکن بنا دیتی ہے۔ دوڑ کے لیے اگرچہ صرف محفوظ راستہ اور جوتے درکار ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر لوگ اسے کھلی فضا میں لمبے دورانیے تک کرنا پسند کرتے ہیں، جو ذہنی طور پر بھی تازگی فراہم کرتا ہے۔

چوٹ کے خطرے کے حوالے سے دیکھا جائے تو دوڑ لگانا ابتدائی افراد کے لیے نسبتاً آسان ہے، جبکہ رسی کودنے کے لیے کچھ مشق درکار ہوتی ہے۔ غلط تکنیک دونوں صورتوں میں گھٹنوں، پنڈلیوں یا پیروں کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ رسی کودتے وقت بہت اونچی چھلانگ یا سخت لینڈنگ سے پرہیز اور مناسب جوتوں کا استعمال ضروری ہے، جبکہ دوڑ میں اچانک فاصلے یا رفتار بڑھانا چوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہترین ورزش وہی ہے جسے آپ مستقل اور محفوظ انداز میں کرسکیں اور جس سے آپ کو لطف بھی آئے۔ کئی افراد کےلیے دونوں ورزشوں کا امتزاج بہترین رہتا ہے، مصروف دنوں میں رسی کودنا اور فارغ وقت میں دوڑ لگانا۔ اگر آپ کے پاس وقت یا جگہ محدود ہے اور آپ مکمل جسم کی ورزش چاہتے ہیں تو رسی کودنا بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، جبکہ برداشت بڑھانے اور کھلی فضا سے لطف اٹھانے والوں کے لیے دوڑ لگانا زیادہ مناسب ہے۔

نوٹ: یہ خبر عمومی معلومات کے لیے ہے اور کسی طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ ورزش شروع کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رسی کودنا دوڑ لگانا رسی کودنے کے مطابق سکتا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب