دہلی میں مسجد کے قریب انہدامی کارروائی، جھڑپوں میں 5 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
نئی دہلی میں رام لیلا میدان کے قریب ایک مسجد کے اطراف تجاوزات کے خلاف جاری انہدامی کارروائی کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جن میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور علاقے میں معمول بحال ہو چکا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) دہلی ہائی کورٹ کے احکامات پر ترکمان گیٹ کے علاقے میں سید فیض الٰہی مسجد اور قریبی قبرستان سے متصل زمین پر تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اسی دوران کچھ افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
ڈپٹی کمشنر پولیس (سنٹرل) ندھِن والسَن کے مطابق کارروائی 6 اور 7 جنوری کی درمیانی شب طے کی گئی تھی، جس کے لیے پولیس نفری پہلے ہی تعینات تھی۔ جے سی بی مشینری پہنچنے پر 100 سے 150 افراد جمع ہو گئے، جن میں سے بیشتر کو بات چیت کے ذریعے منتشر کر دیا گیا، تاہم چند افراد نے ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کیا۔
مزید پڑھیںٹرمپ کو متاثر کرنے کیلئے مودی حکومت کی مہنگی لابنگ، سالانہ 18 لاکھ ڈالر خرچ
مودی مجھ سے ناراض ہے، ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم پر طنزیہ جملے کس دیئے
پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے، جس کے بعد حالات قابو میں آ گئے۔ زخمی ہونے والے پانچوں پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور طبی امداد دی گئی۔ پولیس کے مطابق قانونی کارروائی میڈیکل رپورٹس اور بیانات کے بعد عمل میں لائی جائے گی جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق عدالتی حکم کے تحت مسجد کے قریب واقع ایک بینکوئٹ ہال اور ڈسپنسری کو تجاوزات قرار دے کر منہدم کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ایم سی ڈی نے کارروائی سے قبل پولیس کو آگاہ کیا تھا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقامی امن کمیٹیوں سے بھی رابطہ رکھا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں