ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے توانائی کے شعبے میں خوش آئند پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی فیصلہ کن اور مؤثر قیادت کی بدولت توانائی کے بڑے منصوبے پاکستان کی صنعتی ترقی کو نئی جہت فراہم کر رہے ہیں۔
نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے شیخوپورہ میں 220 کلو واٹ قائداعظم بزنس پارک گرڈ اسٹیشن کو کامیابی سے فعال کر دیا۔
یہ پیش رفت شیخوپورہ اسپیشل اکنامک زون میں قائم بڑے صنعتی صارفین کے توانائی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔
چار ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل یہ منصوبہ صنعتی صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کر کے معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے گا۔
یہ منصوبہ ملک کا پہلا گرڈ اسٹیشن ہے جو خصوصی طور پر اسپیشل اکنامک زون کے لیے کمیشن کیا گیا ہے۔
یہ انتظام برقی نظام کو مستحکم بنانے، وولٹیج کے توازن کو بہتر کرنے اور بھاری صنعتی بوجھ کی مؤثر برداشت کو یقینی بنانے میں مددگار ہوگا۔
این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک کے مطابق خصوصی اقتصادی زونز کے لیے جدید پاور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
این جی سی کی جانب سے دسمبر میں 500 کلو واٹ لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن کی فعالی سے پنجاب کا ہائی وولٹیج ترسیلی نظام مزید مضبوط ہوا۔ ایس آئی ایف سی کی مربوط سہولت کاری کے نتیجے میں منصوبوں کی بروقت تکمیل قومی ترقی اور معاشی استحکام کی سمت اہم پیش رفت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔