کراچی، صنعتی ایریا سے چادر میں لپٹی خاتون کی ملنے والی لاش کی شناخت ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا سے یکم جنوری کو کچرا کنڈی کے قریب سے چادر میں لپٹی ہوئی نامعلوم خاتون کی ملنے والی تشدد زدہ لاش کو 36 سالہ آسیہ زوجہ جوار کے نام سے شناخت کرلیا گیا۔
مقتولہ سہراب گوٹھ کی رہائشی تھی جو یکم جنوری کو گھر سے نازک نامی شخص کے ہمراہ گئی تھی جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی۔
شوہر نے سہراب گوٹھ تھانے میں 6 جنوری کو اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
اس حوالے سے مقتولہ آسیہ بی بی کے شوہر جوار نے چھیپا سرد خانے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لاسی گوٹھ احمد جمال پاڑہ کا رہائشی ہے اور اس کی بیوی یکم جنوری کو گھر سے گئی تھی جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے اور اس کے اغوا کا مقدمہ سہراب گوٹھ تھانے میں 6 جنوری کو درج کرایا تھا۔
شوہر کے مطابق اس کی اہلیہ کی لاش یکم جنوری کی شب نیو کراچی صنعیتی ایریا کے علاقے 7 نمبر سے ملی تھی۔
مقتولہ کے شوہر مدعی مقدمہ جوار نے سہراب گوٹھ پولیس کو بیان دیا ہے کہ یکم جنوری کو وہ اپنے کام پر چلا گیا تھا کہ میری بیوی اپنے 2 بچوں کے ہمراہ گھر پر موجود تھی کہ نازک ہاشمی نامی شخص نے فون کر کے میری بیوی کو کہا کہ آپ کے گھر کے باہر کھڑ ہوا ہوں آجاؤ۔
مزید پڑھیںکراچی، پوش علاقوں میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث ملازمین کی فہرست تیار
اس پر میری بیوی نازک کے ہمراہ اپنے بچوں کو گھر پر ہی چھوڑ کر چلی گئی تھی اور پڑوس کو کہا تھا کہ وہ بچوں کا خیال رکھے لیکن اس کے بعد سے وہ اب تک گھر واپس نہیں آئی۔
انھوں نے بتایا کہ نازک ہاشمی نامی شخص ایوب گوٹھ میں چلنے والے لنگر پر کام کرتا ہے جہاں پر اس کی اہلیہ کھانا لینے جاتی تھی اور اس نے میری بیوی کو دھمکی بھی دی تھی کہ مجھ سے دوستی نہیں کی تو تمھیں اغوا کر لونگا۔
مدعی جواد نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی آسیہ کو نازک نامی شخص نے بہلا پھسلا کر اغوا کیا ہے۔
مقتولہ کے شوہر نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔
پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتولہ کی لاش کو اس کے شوہر کے حوالے کر دی جبکہ مقدمے میں نامزد نازک ہاشمی نامی شخص کو پولیس سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے جس کی گرفتاری کے بعد ہی قتل کی وجہ سمیت دیگر معاملات کا علم ہو سکے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یکم جنوری کو سہراب گوٹھ میری بیوی کے شوہر کے بعد
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔