ٹیرر فنڈنگ کیس میں شبیر شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 جنوری کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
این آئی اے نے 2017ء میں 12 لوگوں کے خلاف پتھراؤ کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے کہا کہ وہ کشمیری علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت پر 13 جنوری کو سماعت کرے گی۔ یہ عرضی جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آئی۔ علیحدگی پسند رہنما کی جانب سے سینیئر وکیل کولن گونسالویس پیش ہوئے۔ گونسالویس نے اپنے دلائل شروع کرتے ہی این آئی اے کی نمائندگی کرنے والے سینیئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے کہا کہ انہیں ذاتی وجوہات کی وجہ سے کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔ لوتھرا نے کہا کہ گونسالویس کو کیس پر بحث کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔ بنچ نے ریمارکس دیئے ہمیں بھی آج کچھ مشکل ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت محدود ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے معاملے کی سماعت 13 جنوری کے لئے مقرر کی۔ شبیر شاہ نے دہلی ہائی کورٹ کے 12 جون کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کو بتایا کہ کیس میں گواہوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ 4 ستمبر کو سپریم کورٹ نے شبیر کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا اور ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر این آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔
ہائی کورٹ نے علیحدگی پسند رہنما کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اسی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور گواہوں کو متاثر کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ شبیر شاہ کو این آئی اے نے 4 جون 2019ء کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے نے 2017ء میں 12 لوگوں کے خلاف پتھراؤ کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ شبیر پر جموں و کشمیر میں علیحدگی کی تحریک کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی اے نے نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔