وینزویلا پر امریکی قبضے کی ‘پیشگوئی’ 6 سال پہلے ہی ویب سیریز میں کردی گئی تھی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا پر امریکی قبضے سے متعلق پیش گوئی چھ سال قبل ہی ایک امریکی ویب سیریز میں کی جاچکی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی ویب سیریز Jack Ryan میں دکھائی گئی صورتحال موجودہ حالات سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتی ہے۔ اسی سیریز کا ایک کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکا کو لاحق اصل خطرات صرف دور دراز ممالک سے نہیں بلکہ اپنے خطے کے ممالک سے بھی ہو سکتے ہیں۔
وائرل ہونے والے اس کلپ میں وینزویلا کے وسیع تیل اور معدنی وسائل، شدید انسانی بحران اور ملک کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یہ کلپ ایسے وقت میں دوبارہ زیر بحث آیا ہے جب 3 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کے خلاف اقدامات سے متعلق بیان دیا تھا۔
اس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو موجودہ حالات سے جوڑتے ہوئے اسے ایک طرح کی ’’پیش گوئی‘‘ قرار دینا شروع کر دیا۔
واضح رہے کہ ماضی میں امریکی کارٹون دی سمپسنز بھی اسی نوعیت کی مبینہ پیش گوئیوں کے باعث متعدد بار موضوعِ بحث بن چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔