Jasarat News:
2026-07-24@08:36:29 GMT

وینزویلا کے صدر کا اغواء، امریکی غنڈہ گردی

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-03-3
کسی خودمختار ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے یوں اٹھا لینا صرف بیرونی طاقت کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایسے ہاتھ درکار ہوتے ہیں جو وقت پر نہ اٹھیں، ایسی آنکھیں جو دیکھ کر بھی نہ دیکھیں اور ایسے ضمیر جو قیمت لے کر خاموش ہو جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں توپوں اور میزائلوں سے کم اور اپنے ہی لوگوں کی بے وفائی سے زیادہ گرتی ہیں۔ جب حفاظتی دائرہ دانستہ نرم کیا جائے، جب کمانڈ میں تذبذب پیدا کیا جائے اور جب فیصلے فائلوں میں الجھا دیے جائیں تو چند منٹوں میں پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔

امریکا نے یہ طریقہ پہلی بار استعمال نہیں کیا۔ 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ کیمیائی ہتھیاروں کا شور مچایا گیا، دنیا کو خوف میں مبتلا کیا گیا اور پھر حملہ کر دیا گیا۔ بعد میں ثابت ہوا کہ نہ کوئی کیمیائی ہتھیار تھے اور نہ ہی وہ خطرات جن کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اصل مقصد عراق کے تیل کی دولت، سونے کے ذخائر اور قدرتی معدنیات پر قبضہ تھا۔ صدام حسین کا انجام اسی منصوبے کی ایک کڑی بنا۔ آج وینزویلا کے ساتھ بھی وہی منطق دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیانیہ بدلا ہے، مگر مقصد وہی ہے۔ وسائل پر قبضہ اور خودمختار قیادت کا خاتمہ۔ غداری کی یہ داستان نئی نہیں۔ معمر قذافی کی مثال سامنے ہے۔ بیرونی حملہ بعد میں ہوا، اندرونی کمزوریاں پہلے پیدا کی گئیں۔ آج مادورو کے معاملے میں بھی سوال یہی ہے کہ کیا ریاست واقعی لاعلم تھی یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی فیصلہ تاخیر کا شکار ہوا۔ فوجیں خود سے جنگ نہیں چھیڑتیں، وہ حکم کی پابند ہوتی ہیں۔ جب قیادت ناقابل ِ رسائی ہو جائے، جب معلومات بکھر جائیں اور جب ایک حکم دوسرے حکم کی توثیق کا انتظار کرے تو ریاست چند لمحوں میں بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں امریکی دوہرے معیار کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوتا ہے۔ ایک طرف عالمی عدالت ِ انصاف کے فیصلوں اور سنگین الزامات کے باوجود بن یامین نیتن یاہو واشنگٹن میں سرخ قالین پر اُترتے ہیں، اور دوسری طرف ایک خودمختار ریاست کے صدر کو قانون کے نام پر اغواء کر کے عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ اگر یہی قانون ہے تو یہ صرف طاقتور کے لیے ہے، کمزور کے لیے نہیں۔ یہی وہ غنڈہ گردی ہے جس نے عالمی نظامِ انصاف کو تماشا بنا دیا ہے۔

امریکی قیادت شاید یہ بھول گئی ہے کہ یہ 2003 نہیں ہے، جب دنیا صرف سی این این، بی بی سی اور فاکس نیوز جیسے مغربی چینلز پر انحصار کرتی تھی۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ درست حقائق اور اصل معلومات لمحوں میں دنیا تک پہنچتی ہیں، اور طاقتور اقوام کی غنڈہ گردی پر سچائی پر مبنی تبصرے فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ جیسے ہی وینزویلا کے صدر کے اغواء کی خبر پھیلی، سوشل میڈیا پر عراق پر امریکی حملے کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ امریکی افواج کی سونے کی اینٹوں پر بیٹھ کر بنائی گئی تصاویر، اور قیدیوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی تشدد کی ویڈیوز دوبارہ گردش کرنے لگیں۔ منظر یہ تھا کہ گویا دنیا ایک طرف کھڑی ہے اور امریکا دوسری طرف، حتیٰ کہ امریکا کے اپنے عوام بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر قانونی اقدام پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح ہے کہ دنیا مکمل خاموش نہیں رہی۔ لاطینی امریکا، افریقا اور ایشیا کے کئی ممالک نے اس اقدام کو ریاستی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ یہ آوازیں شاید کمزور ہوں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچ کی آواز ابتدا میں کمزور ہی ہوتی ہے، پھر وقت اسے طاقت دیتا ہے۔ کمزور اور خوددار ممالک جانتے ہیں کہ اگر آج ایک ریاستی سربراہ کو اغواء کرنا معمول بن گیا تو کل کسی بھی ملک کی خودمختاری محفوظ نہیں رہے گی۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اغواء اور غیر معمولی گرفتاریوں کی یہ روایت آج شروع نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے معصوم بچوں کے اغواء پر بھی دنیا خاموش رہی تھی۔ تب بھی سہولت کار موجود تھے، اور ان میں جنرل پرویز مشرف جیسے کردار تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ آج منظرنامہ بدلا ہے، مگر کہانی وہی ہے۔ بیرونی طاقت اور اندرونی غداری۔ اس روش کے مستقبل قریب میں نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اگر ریاستی سربراہوں کے اغواء کو معمول بنا دیا گیا تو عالمی نظام توازن کھو دے گا۔ جب قانون کمزور اور انصاف منتخب ہو جائے تو ریاستیں اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہی راستہ عالمی جنگوں کی طرف جاتا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان جنگوں کی قیمت سب سے زیادہ غریب قومیں ادا کرتی ہیں۔ آخر میں تاریخ کا وہ اٹل سبق یاد رکھنا ہوگا جو صلاح الدین ایوبی نے صدیوں پہلے دیا تھا کہ میں دشمن سے نہیں، غدار سے ڈرتا ہوں، دشمن سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار پیٹھ میں خنجر گھونپتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا نشانہ کون ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومیں اب بھی اپنے غداروں کو پہچانیں گی یا نہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے صدر کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار