قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا ہےکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، اس موقع پر انہیں آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے فارمیشن کے زیر اہتمام تربیتی مشقوں کا جائزہ لیا، فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے تیاریوں اور جدت اپنانے پر زور دیا اور جوانوں کو فراہم کردہ کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے سی ایم ایچ لاہور میں ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے طبی عملے اور انتظامیہ کی خدمات کی تعریف کی۔لاہور گیریژن میں افسران سے خطاب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، پاک فوج ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہیں۔ افواج اعلیٰ معیار، نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جوانوں کی جسمانی فٹنس اور مورال ہماری ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل نے کے حوالے سے پاک فوج
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔