اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
نیدرلینڈز کی عدالت نے ایک جوڑے کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ ان کے شادی کے وعدے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے تھے۔
جوڑے نے اپریل 2025 میں زولویے میں ایک غیر رسمی سول تقریب منعقد کی اور اپنی شادی کے وعدے لکھوانے کے لیے دوست کی مدد سے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ تاہم عدالت نے کہا کہ جوڑے نے قانونی تقاضوں کے مطابق یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ شادی سے جڑے تمام قانونی فرائض پوری طرح ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور عورت نے ڈچ سول کوڈ کے آرٹیکل 1:67، پیراگراف 1 میں بیان کردہ اعلان نہیں کیا۔
فیصلے میں عدالت نے اپنی بات واضح کرنے کے لیے اے آئی سے تیار شدہ وعدے بھی نقل کیے۔ مرد سے تقریب کے دوران پوچھا گیا ’کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آج، کل اور ہمیشہ (عورت کا نام) کے ساتھ رہیں گے؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ ہنسیں گے، ساتھ بڑھیں گے اور ایک دوسرے سے محبت کریں گے چاہے جو بھی ہو؟‘۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ ’ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے، ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے حتیٰ کہ مشکل وقت میں بھی؟‘
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
تاہم عدالت کو یہ سب پسند نہیں آیا کیونکہ تقریب میں استعمال ہونے والا متن قانونی طور پر درست نہیں تھا اور اس نے فیصلہ دیا کہ مرد اور عورت کے درمیان شادی رسمی طور پر مکمل نہیں ہوئی۔
جوڑے نے دلیل دی کہ ان کا یہ ارادہ نہیں تھا اور تقریب کے وقت سول افسر نے بھی اس کی نشاندہی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی تاریخ تبدیل کرنا ان کے لیے جذباتی طور پر مشکل ہوگا اور درخواست کی کہ انہیں ابتدائی شادی کی تاریخ کو قانونی شادی کی تاریخ رکھنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
لیکن عدالت نے قانون کے مطابق یہ درخواست مسترد کر دی۔ اور کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ سرٹیفکیٹ میں درج شادی کی تاریخ مرد اور عورت کے لیے کتنی اہم ہے لیکن یہ قانون کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی شادی چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی شادی چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت شادی کی تاریخ عدالت نے اے ا ئی کے لیے کہا کہ یہ بھی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :