افغانستان: طالبان کا نیا حکم نامہ، مشتبہ افراد کی عدالت کے بغیر 10 دن تک حراست پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان طالبان حکومت نے حراست کے قوانین میں سخت تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے مشتبہ افراد کی حراست کی مدت 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی ہے، جبکہ عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کا حق ختم کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے فرمان کے تحت قیدیوں کو عدالت کے حکم کے بغیر رہا نہیں کیا جا سکے گا اور تمام حراستی اختیارات افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ سابقہ قوانین کو ختم کرتے ہوئے رہائی کا اختیار صرف طالبان عدالتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بلاجواز گرفتاریوں اور طویل حراست کے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ بھی 2021 کے بعد طالبان کی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں افغانستان کو ایک کھلی جیل میں بدل رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔