تصویر، اسکرین گریب

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف ہے کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے جسے ہر حال میں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت گڈ گورننس میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے، آج کی پریس کانفرس میں کچھ باتوں پر وضاحت ضروری ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ضروری ہے، نیشل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرائیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب کوئی جماعت نہیں،یہ کہنا پی ٹی آئی کے پی میں تعاون نہیں کر رہی یہ مناسب نہیں اور حقیقت کے برعکس بات ہے۔

کسی کی سیاست اور کسی کی ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد یہ ہے سال 2025 میں دہشت گردی کے اقدامات کا جامع احاطہ کیا جائے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم قومی پالیسی بنانا چاہتے ہیں جو آئندہ 5 سے 10 سال چلے، ہم دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہیں، لوگوں کو بے گھر نہیں دیکھنا چاہتے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمارا پیغام یکجہتی کا پیغام ہے، ہم پاکستان کے امن کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی پر تہمت لگانا مناسب نہیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں، ایک دوسرے سے سیکھیں۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ پورے کی پی کے عوام نے مطالبہ کیا ہم ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کرے، دہشت گردی کے خلاف مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین و قانون کی عمل داری ہو، قبائلی علاقوں کو فنڈز نہیں دیے گئے، وہاں غربت میں اضافہ ہوا، کے پی کے نوجوانوں کو امید دیں اور روزگار فراہم کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے، ہمیں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہماری جماعت پُرامن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار