پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت سے کے پی حکومت کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
تصویر، اسکرین گریب
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف ہے کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے جسے ہر حال میں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت گڈ گورننس میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے، آج کی پریس کانفرس میں کچھ باتوں پر وضاحت ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ضروری ہے، نیشل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرائیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب کوئی جماعت نہیں،یہ کہنا پی ٹی آئی کے پی میں تعاون نہیں کر رہی یہ مناسب نہیں اور حقیقت کے برعکس بات ہے۔
اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد یہ ہے سال 2025 میں دہشت گردی کے اقدامات کا جامع احاطہ کیا جائے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم قومی پالیسی بنانا چاہتے ہیں جو آئندہ 5 سے 10 سال چلے، ہم دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہیں، لوگوں کو بے گھر نہیں دیکھنا چاہتے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمارا پیغام یکجہتی کا پیغام ہے، ہم پاکستان کے امن کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی پر تہمت لگانا مناسب نہیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں، ایک دوسرے سے سیکھیں۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ پورے کی پی کے عوام نے مطالبہ کیا ہم ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کرے، دہشت گردی کے خلاف مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین و قانون کی عمل داری ہو، قبائلی علاقوں کو فنڈز نہیں دیے گئے، وہاں غربت میں اضافہ ہوا، کے پی کے نوجوانوں کو امید دیں اور روزگار فراہم کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے، ہمیں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہماری جماعت پُرامن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔