پاکستان مسلم لیگ (ق) کو خیبر پختونخوا میں بڑی سیاسی کامیابی حاصل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پشاور:
پاکستان مسلم لیگ (ق) کو خیبر پختونخوا میں بڑی سیاسی کامیابی حاصل ہوگئی، جنوبی اضلاع سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی ہے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس میں صوبائی صدر انتخاب خان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات مصطفیٰ ملک شریک ہوئے۔
سیاسی شمولیتوں میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات شاہد الیاس مروت کا کلیدی کردار رہا۔ صوبائی رہنما بلال محمد زئی، ریاض خان اور عبدالباسط بھی ملاقات میں موجود تھے۔
جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی کے رہنما حاجی خان محمد وزیر، ٹانک سے شفیع اللہ خان بھٹانی، سابق ضلعی صدر پیپلز پارٹی ڈیرہ اسماعیل خان سید مدثر زیدی اور ناظمین اتحاد ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر ملک عمران اعوان نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
اس کے علاوہ، سابق تحصیل صدر پی ٹی آئی ملک الطاف کھوکھر، لکی مروت سے محمد اسماعیل خان اور تحریک لبیک پاکستان کے پیر اسماعیل چشتی بھی مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے۔
رہنماؤں نے چوہدری شجاعت حسین کی مدبرانہ قیادت سے متاثر ہو کر شمولیت اختیار کی۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) محبِ وطن جماعت ہے۔ ملکی سلامتی، دفاع اور خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔ سیاست کا محور عوامی خدمت ہے۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع کی صورتحال سن کر دکھ ہوا، جنوبی اضلاع کی ترقی کے لیے مسلم لیگ (ق) کلیدی کردار ادا کرے گی۔
مصطفیٰ ملک کا کہنا تھا کہ نئے شامل ہونے والے تمام رہنماؤں کو خوش آمدید کہتے ہیں، انتخاب خان کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) صوبے میں بھرپور متحرک ہے۔ جنوبی اضلاع سے شمولیتوں پر انتخاب خان اور صوبائی تنظیم کو مبارکباد دیتے ہیں۔
انتخاب خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو تبدیلی کے ثمرات نہیں ملے، تبدیلی کے نام پر صوبے کے عوام کو بدحالی ملی، صوبے کے عوام کی نظریں اب مسلم لیگ (ق) پر ہیں۔ جنوبی اضلاع سے شمولیتیں بڑی سیاسی کامیابی ہیں، صوبے بھر میں کنونشنز اور عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع مسلم لیگ خان اور
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔