چین کا 2027 تک بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز میں برتری کے حصول کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
چین نے سنہ 2027 تک بنیادی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجیز کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی یقینی بنانے اور اپنی صنعتی وسعت اور عالمی مسابقت برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
جمعرات کو جاری ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 8 سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر ایک حکمت عملی جاری کی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح صنعتی جدید کاری کو فروغ دے گی اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ کو نئی سطح تک لے جائے گی۔
منصوبے کے تحت 100 اعلیٰ معیار کے صنعتی ڈیٹا سیٹس تیار کیے جائیں گے اور 500 نمائشی استعمال کے ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے جبکہ 3 سے 5 عمومی نوعیت کے بڑے اے آئی ماڈلز کو تمام صنعتی شعبوں میں نافذ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مخصوص صنعتوں کے لیے بڑے اے آئی ماڈلز تیار کیے جائیں گے جو پورے صنعتی نظام کا احاطہ کریں گے اور چینی کمپنیوں کو صنعتی چینز میں اے آئی کے گہرے انضمام میں مدد فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیے: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
چین کا ہدف ہے کہ سنہ 2027 تک 2 سے 3 عالمی معیار کے اے آئی ایکو سسٹم لیڈرز تیار کیے جائیں، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) کی معاونت کی جائے اور Schweizer ماڈل کے تحت اے آئی سہولت فراہم کرنے والے سروس پرووائیڈرز کی ترقی کو فروغ دیا جائے۔
منصوبے میں اوپن سورس اے آئی ایکو سسٹمز، سیکیورٹی گورننس اور چینی اے آئی حلوں کی بین الاقوامی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اہم ترجیحی شعبوں میں اے آئی چپس اور سافٹ ویئر کی ہم آہنگ ترقی، ماڈلز کی تربیت اور حقیقی وقت میں نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت نیز تربیتی ڈیٹا اور صنعتی الگورتھمز کا تحفظ شامل ہے۔
مزید پڑھیں: جاپانی خاتون نے اے آئی کریکٹر سے شادی رچالی
دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ متعلقہ صنعتوں میں خصوصی بڑے اے آئی ماڈلز کا استعمال اور بغیر رکاوٹ انضمام ناگزیر ہے تاکہ چین مصنوعی ذہانت میں جدت کی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی چین مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی چین مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اے ا ئی اے آئی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔