جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ 50 طلبہ کو انکے گھروں کے نزدیک کالجوں میں اضافی نشستیں بنا کر داخل کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے جموں کے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) کو مطلوبہ معیار برقرار نہ رکھنے پر اچانک "ایم بی بی ایس" کی اجازت واپس لئے جانے کے فوراً بعد جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جواب طلب کیا ہے کہ میڈیکل کالج کا معیار کیوں برقرار نہیں رکھا گیا۔ جموں کے کنونشن سینٹر (Convention Centre) میں منعقدہ ایک تقریب کے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ پہلی انسپکشن کس نے کی اور کس نے کالج کو پاس کیا اور منظوری دی، لوگ جشن منا رہے ہیں، مگر اوپر سے نیچے تک سب عہدیداروں سے پوچھا جانا چاہیئے کہ اگر کالج تعمیر کیا گیا تو معیار کو کیوں برقرار نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا سربراہ کون ہے، چانسلر کون ہے، جیسے آپ مجھ سے سوال کرتے ہیں، ویسے ہی ان سے بھی پوچھیں۔ انہوں نے کہا کہ معیار نہیں رکھے گئے تو ذمہ دار کون ہے اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔ این ایم سی کے مطابق میڈیکل ایسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) نے سرپرائز انسپکشن کے دوران کالج میں بے ضابطگیاں پائیں اور موجودہ 50 طلبہ کے بیچ کو جموں و کشمیر کے دوسرے میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ 50 طلبہ کو ان کے گھروں کے نزدیک کالجوں میں اضافی نشستیں بنا کر داخل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف ان 50 طلبہ کا نہیں، بلکہ اُن آنے والے طلبہ کا مستقبل بھی ہے جو اس کالج سے فائدہ اٹھاتے۔ آج 50 سیٹیں تھیں، آنے والے برسوں میں 400 تک پہنچ جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جموں سے 400 میں سے 250 طلبہ آ سکتے تھے۔ اس نقصان کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرانا ہوگا۔ یاد رہے کہ ایم بی بی ایس رجسٹریشن حصول کے بعد امسال پہلی مرتبہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے لئے 45 طلبہ پر مشتمل پہلے بیچ کے لئے نیٖٹ (NEET) امتحان کریک کرنے والے 45 طلبہ کا یہاں داخلہ مل گیا جن میں 42 مسلم طلبہ تھے۔ مسلم طلبہ کا اس کالج میں داخلہ منظور کئے جانے کے بعد جموں میں ہندو تنظیموں نے سخت احتجاج درج کیا اور کئی دایاں بازو تنظیموں نے یک جٹ ہو کر لگاتار ڈیڑھ ماہ تک مخالفت کی اور بالآخر این ایم سی نے یونیورسٹی کی رجسٹریشن ہی منسوخ کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے میڈیکل کالج نے کہا کہ انہوں نے طلبہ کا

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان