امریکی اہلکار کی فائرنگ میں قتل ہونے والی خاتون کون تھیں؟ حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی شہر منی ایپلس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک اہلکار نے گاڑی سوار 37 سالہ خاتون کو براہ راست فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والی تین بچوں کی ماں کا نام رینی نکول میکلن گُڈ تھا۔ وہ کولوراڈو میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ملا۔
رینی نکول نے حال ہی میں منی ایپلس میں رہائش اختیار کی۔ وہ ایک شاعرہ تھیں اور کتب بینی کا شوق رکھتی تھیں۔
افسوسناک حادثے کے روز رینی نے اپنے 6 سالہ بیٹے کو اسکول چھوڑا اور واپسی پر انھیں اور شریکِ حیات کو برف پوش سڑک پر امریکی اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی۔
رینی کے پارٹنر نے بتایا کہ آناً فاناً صورت حال بدل گئی اور جب تک میں کچھ سمجھ پاتا۔ اہلکار نے فائرنگ کردی اور اہلیہ کو برابر کی سیٹ پر خون میں لت پت پایا۔
عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار ایس یو وی کے قریب آتے ہیں، رینی کو دروازہ کھولنے کا حکم دیتے ہیں اور دروازے کا ہینڈل پکڑ لیتے ہیں۔
اسی دوران جیسے ہی گاڑی آگے بڑھتی ہے، سامنے کھڑا ایک اور اہلکار اپنا ہتھیار نکال کر فائرنگ کر دیتا ہے۔
بعد ازاں، ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام نے رینی گُڈ کو “گھریلو دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وفاقی اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی۔
ان کے سابق شوہر نے میڈیا کو بتایا کہ رینی ایک پُرجوش عیسائی تھیں۔ نوجوانی میں شمالی آئرلینڈ میں مشنری یوتھ ٹرپس میں حصہ لیتی رہیں۔ موسیقی سے محبت تھی اور گانا پسند کرتی تھیں۔
تعلیمی اعتبار سے رینی گُڈ نے اولڈ ڈومینین یونیورسٹی سے تخلیقی تحریر (کری ایٹو رائٹنگ) کی تعلیم حاصل کی تھی، جہاں انہیں 2020 میں انڈرگریجویٹ شاعری کا انعام بھی ملا۔
یونیورسٹی کے انگریزی شعبے کے مطابق، وہ ایک ایسی مصنفہ تھیں جو فارغ وقت میں فلمیں دیکھنے اور آرٹ بنانے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔
ان کے پہلے شوہر سے علیحدگی ہوگئی تھی جب کہ دوسرے شوہر کا انتقال 2023 میں ہوا جب کہ وہ اس وقت مبینہ طور پر خاتون ٹرانس جینڈر پارٹنر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔
جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کی ویڈیو میں ایک اور خاتون کی آواز سن جاسکتی ہیں جو کہہ رہی ہیں کہ یہ میری بیوی ہے، سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔