برسلز: پاکستانی سفارتخانے کی ایرازمس پلس انفارمیشن پروگرام میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کی ایرازمس پلس انفارمیشن پروگرام میں شرکت۔ پاکستان نے اسی پروجیکٹ کے دیگر پروگراموں میں بھی شرکت مانگ لی۔
تفصیلات کے مطابق یورپین یونین کی جانب سے دنیا بھر کیلئے جاری تعلیمی ترقی کے پروگرام ایرازمس پلس کے ایک سیشن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے بھی شمولیت اختیار کی جس میں +Erasmus کی اہم کارروائیوں بشمول اعلیٰ تعلیم میں صلاحیت کی تعمیر، بین الاقوامی کریڈٹ موبلٹی، جوائنٹ ماسٹرز، اور جین مونیٹ ایکشنز میں مواقعوں کے اشتراک پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔
سفارتخانے کی جانب سے اپنے خیرمقدمی کلمات میں ناظم الامور محمد فیصل فیاض نے ایرازمس پلس کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان علمی شراکت داری کے طور پر اجاگر کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیمی، پالیسی اور عوام کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایرازمس پلس کے تمام مواقع، خاص طور پر کریڈٹ موبلٹی اور جین مونیٹ کے اقدامات کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایرازمس پلس
پڑھیں:
: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
سٹی 42: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ میں شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کلوبائیف کا شکریہ ادا کیا۔ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونے پر اسحاق ڈار کی رکن ممالک کو مبارکباد، تنظیم کے کردار کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے کہا پاکستان شنگھائی اسپرٹ، علاقائی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
روس کا سب سے جدید اور خطرناک جنگی طیارہ گر کر تباہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کی امن و سفارتکاری کی کوششوں کی مثال قرار دیا،ایس سی او وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، اسحاق ڈار نے کہا پاکستان ستمبر 2026 میں ایس سی او سربراہان کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے ۔
اسحاق ڈار نے 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تمام رکن ممالک کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا