لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے تاہم اسرائیل نے ان اقدامات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اب بھی ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ قدس فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

لبنان کو امریکا کے شدید دباؤ اور اسرائیلی حملوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات کے پیشِ نظر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل پر آمادہ ہونا پڑا ہے۔ اس کے باوجود نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن کے بارے میں اسرائیلی مؤقف ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک اسرائیلی حملوں میں 350 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے پانچ علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی جارحیت کے باعث اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہوا ہے۔

لبنانی فوج کے بیان کے مطابق، منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع تقریباً 30 کلومیٹر طویل علاقے میں اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم اسرائیل کے زیرِ قبضہ سرحدی علاقوں اور بعض مقامات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو مرحلہ وار پورے ملک تک وسعت دی جائے گی۔

مزید پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں واضح طور پر حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کی شرط شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ لبنانی حکومت اور فوج کی جانب سے کی جانے والی کوششیں ایک مثبت آغاز ضرور ہیں لیکن وہ مطلوبہ حد تک مؤثر نہیں۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعرات کو لبنان پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ ان کے 2 روزہ دورے کا بنیادی مقصد لبنانی قیادت سے خطے کو درپیش سنگین چیلنجز اور اسرائیلی خطرات پر مشاورت کرنا ہے۔

مکمل حمایت کا اظہار

جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال میں اپنی افواج منتقل کرنا اور خالی کیے گئے علاقوں میں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنا تھا۔

لبنانی فوج نے کہا ہے کہ وہ جنوبی علاقوں میں غیر پھٹے گولہ بارود کو ناکارہ بنانے، زیر زمین سرنگوں کی تلاش اور مسلح گروہوں کی صلاحیتوں کی بحالی روکنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔

لبنانی فوج کے سربراہ جنرل رودولف حیکل حکومت کو فوجی پیشرفت پر بریفنگ دیں گے۔ منصوبے کا دوسرا مرحلہ جنوبی لبنان کے بقیہ علاقوں، دریائے اوالی تک پھیلا ہوا ہے جو ساحلی شہر صیدا کے قریب واقع ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے فوج کے اعلان کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی کا مقصد ریاست کے اس حق کو مضبوط بنانا ہے کہ ہتھیار رکھنے اور جنگ و امن کے فیصلوں کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہو اور لبنانی سرزمین کو کسی بھی قسم کی جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

صدر عون نے کہا کہ پائیدار استحکام کے لیے اسرائیلی فوج کی موجودگی اور مسلسل حملوں جیسے مسائل کا حل ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دے دی

انہوں نے عالمی برادری سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں مدد اور لبنانی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے فوری تعاون کی اپیل بھی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حزب اللہ حزب اللہ غیرمسلح لبنان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حزب اللہ حزب اللہ غیرمسلح جنگ بندی معاہدے حزب اللہ کو لبنانی فوج کے لیے فوج کی

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان