چین : مصنوعی ذہانت کا مالیاتی حجم 10 کھرب یوآن سے زائد کرنے کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ(انٹرنیشنل ڈیسک ) چین نے نئی عملی منصوبے کے تحت اپنے بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کے مالیاتی حجم کو 2سال کے اندر 10 کھرب یوآن (142.5 ارب امریکی ڈالر)سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کردیا۔ اس منصوبے کے تحت حکام اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں کو ہدف بناتے ہوئے 9بڑے اقدامات متعارف کرائیں گے جن میں تکنیکی جدت پر خصوصی زور دیا جائے گا۔منصوبے میں اعلیٰ صلاحیتوں کو راغب کرنے، طویل مدتی سرمایہ کو متحرک کرنے اور اوپن سورس ایکو سسٹم کی حمایت کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔ دیگر اہداف میں ایک لاکھ سے زائد چپس کی گنجائش کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر، 10 سے زائد نئی فہرست شدہ اے آئی سے متعلق کمپنیوں کا اضافہ اور اس شعبے میں 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کی پرورش شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ا ئی
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔