منیاپولس میں امریکی امیگریشن ٹیم کے ہاتھوں خاتون قتل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ خاتون نے وفاقی امیگریشن کے اہل کاروں کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی تھی۔ فائرنگ کا واقعہ منیاپولس میں سٹریٹ 34 اور پورٹ لینڈ ایونیو میں پیش آیا۔واقعے کی وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ایک ہونڈا ایس یو وی قانون نافذ کرنے والی گاڑیوں کے راستے میں حائل ہو گئی جو برف پوش سڑک پر چل رہی تھیں۔ جب افسران اس کے قریب آئے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو 37 سالہ خاتون نے گاڑی چلادی،جس پر ایک ایجنٹ نے ہینڈگن سے 3گولیاں چلائیں۔ واقعے کے وقت منی سوٹا میں امیگریشن نافذ کرنے والی ایک کارروائی کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا ۔ محکمہ داخلی سلامتی کے بیان کے مطابق ہمارے افسران کو مارنے کی غرض سے انہیں کچلنے کی کوشش کرنا داخلی دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ افسر نے اپنی جان، قانون نافذ کرنے والے ساتھیوں کی جانوں اور عوام کی حفاظت کے لیے دفاع میں گولیاں چلائیں اور زخمی بھی ہوگیا۔ ادھر منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے وفاقی حکومت کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا کہ ایجنٹس اپنا دفاع کر رہے تھے اور چھاپے مارنے والے آئس افسران سے منیاپولس سے نکل جانے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ منیاپولس کے میئر فرے نے کہاکہ منیاپولس میں امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ (آئس )کی موجودگی کے ابتدائی مراحل سے ہی ہمیں اس لمحے کا خوف رہا ہے۔ان کے تبصروں پر وائٹ ہاؤس نے انہیں مجرم قرار دیا ۔ دوسری جانب وفاقی حکام نے بتایا ہے کہ ایف بی آئی کی طرح منی سوٹا بیورو آف کریمنل اپریئنشن اس واقعے کی تحقیقات میں شامل ہو گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے افراد کو گرفتار اور ملک بدر کررہی ہے جو اس کے مطابق غیر دستاویزی تارکین وطن ہیں اور انتظامیہ کی امیگریشن انفورسمنٹ کارروائیوں کے خلاف بعض شہروں میں پْرزور مظاہرے ہوئے ہیں۔ غیر قانونی مہاجرت روکنے اور غیر دستاویزی تارکین وطن کی ملک بدری کو ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے دوران اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔