ہائی ٹیک ٹریننگ، پولیس اکیڈمی کے تمام افسران کوبیجنگ پولیس کالج بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بیجنگ: (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ پولیس کالج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ہائی ٹیک ٹریننگ کے مختلف سیکشنز کا مشاہدہ کیا۔ وزیرداخلہ نے بیجنگ پولیس کی جانب سے گاڑیوں کے ذریعے ملزمان کو پکڑنے کا عملی اور شاندار مظاہرہ بھی دیکھا اور اعلیٰ کارکردگی پر گاڑیوں کے خصوصی سکواڈ کو بھرپور داد دی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہیکلز سکواڈ کی صلاحیتیں اور بہترین تربیت دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی کے تمام اے ایس پیز ایک ماہ کی تربیت کے لیے بیجنگ پولیس کالج آئیں گے اور نیشنل پولیس اکیڈمی و بیجنگ پولیس کالج کے درمیان تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے دونوں اداروں کے درمیان تعاون کا باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کی جدید سیمولیٹر مشین بھی خود چلا کر دیکھی۔ صدر بیجنگ پولیس کالج وو وائی نے وزیرداخلہ کو سیمولیٹرز اور دیگر ذرائع کے ذریعے ہائی ٹیک ٹریننگ کے بارے میں بریف کیا۔ محسن نقوی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مظاہروں، تشدد کے واقعات اور دیگر جرائم سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیجنگ پولیس کالج میں ٹیکنالوجی بیسڈ تعلیمی و عملی تربیت کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ کالج میں بارہ فیکلٹیز ہیں اور فیکلٹی ممبران کی تعداد چار سو سے زائد ہے جن میں پچاس فیصد پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز شامل ہیں۔
اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، ڈی جی نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن سید خرم علی، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیجنگ پولیس کالج پولیس اکیڈمی محسن نقوی
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں