پیسوں کی لالچ؛ لائیواسٹریمنگ میں بے تحاشا منشیات کے استعمال نے انفلوئنسر کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لائیو اسٹریمنگ کے دوران زیادہ سے زیادہ شراب اور منشیات پینے کے چیلنج کو پورا کرنے کی کوشش میں ہسپانوی انفلوئنسر موت کے منہ میں چلا گیا۔
اسپین میں سوشل میڈیا کی دنیا ایک ہولناک واقعے سے لرز اٹھی، جہاں 37 سالہ معروف اسٹریمر اور انفلوئنسر سرجیو جیمنیز لائیو اسٹریمنگ کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر سرجیو نے لائیو نشریات میں آکر دعویٰ کیا کہ اگر ویوورز پیسے دیں تو وہ 6 گرام کوکین اور وسکی کی پوری بوتل پینے کا مظاہر کریں گے۔
بدقسمتی سے ان کے ساتھ لائیو اسٹریمنگ میں جڑے سوشل میڈیا صارفین نے بھی ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے یہ چیلنج انجام دینے پر اکسایا۔
کچھ نے تو ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کچھ رقم آن لائن ٹرانسفر بھی کی۔ یوں انفلوئنسر نے کوکین پینا شروع کردی۔
بعد ازاں لائیو اسٹریمنگ کے دوران ہی وہسکی کی پوری بوتل بھی پی لیکن اسی وقت ان کی حالت بگڑتی گئی۔ قبل اس کے کہ ایمبولینس پہنچتی وہ دم توڑ گئے۔
انفلوئنسر سرجیو کی والدہ ٹریسا نے روتے ہوئے بتایا کہ رات تقریباً دو بجے وہ باتھ روم جانے کے لیے اٹھیں تو بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
ان کے بقول بار بار آواز دینے کے باوجود جب کوئی جواب نہ ملا۔ تو میں نے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن فرش پر بکھری اشیاء رکاوٹ بن گئیں۔
انفلوئنسر کی والدہ نے بتایا کہ اندر جھانکنے پر سرجیو بستر کے پاس گھٹنوں کے بل جھکا ہوا نظر آیا، جیسے دعا کر رہا ہو، مگر وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔
کمرے سے ایک تقریباً خالی وسکی کی بوتل، انرجی ڈرنکس اور ایک پلیٹ پر منشیات بھی برآمد ہوئیں۔
افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جا ہا ہے۔
یاد رہے کہ سرجیو جیمنیز کو آن لائن شہرت اس وقت ملی تھی جب وہ ایک اور متنازع اسٹریمر سائمن پیریز کی ویڈیوز میں نظر آئے جو لائیو نشریات میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے آن لائن چیلنجز نوجوانوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے جان لیوا رجحان بنتے جا رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل لائیو اسٹریمنگ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔