data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(صاح نیوز)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت تمام وزارتوں کی کارکردگی کے ذریعے گورننس کے ماڈل کو بہتر سے بہتر کرنا چاہتی ہے۔ وزارت پارلیمانی امور کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بھیجوائی جائے گی، وزارتوں کی کارکردگی کی رپورٹ کا مقصد خود احتسابی کے نظام کو مضبوط بنانا اور وزرا کو اپنی ذمے داریوں کا پابند بنانا ہے، وزارت پارلیمانی امور کا کردار صرف شکایات اور مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی اور عوامی نمائندگی کے موثر ذرائع بھی فراہم کرتی ہے، حکومت ہر قسم کے مذاکرات کیلئے تیار ہے کیونکہ کسی بھی مسئلہ کا پائیدار حل بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوری تا دسمبر 2025 کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پیش کی جائے گی اور میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی یہ پیش کی جائے گی، ہمارا مقصد یہ ہے کہ وزارتوں کی کارکردگی کے ذریعے حکومت گورننس کے ماڈل کو زیادہ سے زیادہ بہتر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری، پاور سیکٹر، میری ٹائم افیئرز، مائنز اینڈ منرلز، خارجہ امور سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کارکردگی بہتر نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام وزرا کو وزیراعظم نے پابند کیا ہے کہ ایک سال میں ان کی وزارتوں نے جو اہداف مقرر کئے ہیں اس حوالے سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور کا کردار صرف شکایات اور مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی اور عوامی نمائندگی کے موثر ذرائع بھی فراہم کرتی ہے جس سے ملک میں جمہوری عمل، سیاسی استحکام اور شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں میں نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 تک کی وزارتوں کی مکمل کارکردگی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی جس کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے بھی رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کا مقصد وزارتوں میں خود احتسابی کے نظام کو مضبوط بنانا اور وزرا کو اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنانا ہے جبکہ ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کے واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے بھی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں اور حکومت آج بھی ہر قسم کے مذاکرات کیلئے تیار ہے، کسی بھی مسئلہ کا پائیدار حل بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مضبوط اور موثر رابطہ قائم کر رکھا ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کی تجاویز اور تحفظات براہ راست وزیراعظم تک پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر سیاسی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مذاکرات کو سیاست کا لازمی حصہ اور قومی مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی مقصد کے تحت کمیٹیوں کو خصوصی مینڈیٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی موثر نمائندگی کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کیلئے کھلی اور مثبت پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ اختلافات اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے ۔

خبر ایجنسی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزارت پارلیمانی امور رپورٹ وزیراعظم انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل وزارتوں کی مذاکرات کی کی رپورٹ کے ذریعے ملک میں جائے گی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ