دہشت گردی کے ناسور کو ہر حال میں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: بیرسٹر گوہر علی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف ہے کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے جسے ہر حال میں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپی کے حکومت گڈ گورننس میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے، آج کی پریس کانفرس میں کچھ باتوں پر وضاحت ضروری ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ضروری ہے، نیشل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرائیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب کوئی جماعت نہیں، یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کے پی میں تعاون نہیں کر رہی، یہ مناسب نہیں اور حقیقت کے برعکس بات ہے۔ اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم قومی پالیسی بنانا چاہتے ہیں جو آئندہ 5 سے 10 سال چلے، ہم دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہیں، لوگوں کو بے گھر نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارا پیغام یکجہتی کا پیغام ہے، ہم پاکستان کے امن کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی پر تہمت لگانا مناسب نہیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں، ایک دوسرے سے سیکھیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں پالیسی بنانے کے عمل میں شامل رکھا جائے، پی ٹی آئی عوام اوراداروں کے درمیان خلیج کو ختم کرسکتی ہے۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ پورے کے پی کے عوام نے مطالبہ کیا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرے، دہشت گردی کے خلاف مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین و قانون کی عمل داری ہو، قبائلی علاقوں کو فنڈز نہیں دیے گئے، وہاں غربت میں اضافہ ہوا، کے پی کے نوجوانوں کو امید دیں اور روزگار فراہم کریں، اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے، ہمیں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہماری جماعت پْرامن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی نے کہا کہ گردی کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔