ملتان سلطانز کی فروخت کیلیے دباؤ بڑھ رہا ہے، چیئرمین پی سی بی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میری ٹیم ملتان سلطانز کی فروخت کیلیے مجھ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے بعد پریس کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی نے ملتان سلطانز کے مستقبل کے حوالے سے کھل کر بات کی۔
پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محسن نقوی پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن میں ملتان سلطانز کے معاملات پی سی بی خود دیکھے گا۔
چیئرمین پی سی بی نے ملتان سلطانز کے سابقہ مالک کا نام لیے بغیر کہا کہ سوشل میڈیا پر تنقید ہورہی تھی کہ ٹیم خسارے میں ہے تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے سب کو دکھائیں گے کہ کتنا منافع ہے پھر اس کے بعد ٹیم نیلام کریں گے۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے والے مجید چوہدری کون ہیں؟
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مجھ پر گزشتہ آدھے گھنٹے میں دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے کہ ملتان سلطانز کو بھی بیچ دیں جس پر سلمان نصیر نے کہا کہ میں ابھی اور دباؤ ڈالوں گا۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہم ایک سال ملتان سلطانز کے معاملات چلائیں اور اسے منافع میں چھوڑیں لیکن حتمی فیصلہ پوری ٹیم نے کرنا ہے۔
Breaking news on Multan Sultans: there was pressure to sell it today on auction socially when 2-3 parties more wanted to pay upto 182CR.
However @MohsinnaqviC42 @salnaseer decided not to sell as a challenge to show those who said it’s not profitable business and kept crying for… pic.twitter.com/75Wgx6CQ62 — Syed Majeed (@Cricket_Plus_US) January 8, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی سی بی ملتان سلطانز کے پی ایس ایل کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔