صرف 1.7 میل کیلیے 53 سیکنڈ کی پرواز: انوکھا فضائی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا میں فضائی سفر عموماً طویل فاصلوں اور گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے، مگر اسکاٹ لینڈ کے اورکنی جزائر میں ایک ایسی مسافر پرواز بھی چلائی جاتی ہے جو چند سیکنڈ میں اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پرواز دنیا کی سب سے مختصر شیڈولڈ مسافر فلائٹ کے طور پر جانی جاتی ہے، جو روزانہ ویسٹری اور پاپا ویسٹری نامی دو جزیروں کے درمیان آپریٹ ہوتی ہے۔
اس منفرد فضائی روٹ کا فاصلہ محض 1.
یہ پرواز لوگن ایئر کی جانب سے برٹن نارمن بی این-2 آئی لینڈر طیارے کے ذریعے چلائی جاتی ہے، جو مختصر فاصلوں اور دشوار موسمی حالات میں محفوظ آپریشن کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کے لیے یہ پرواز نہ صرف سہولت کا ذریعہ ہے بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بھی بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری راستے کے مقابلے میں یہ فضائی سروس زیادہ قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے کیوں کہ خراب موسم میں فیری سروس اکثر منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس یہ مختصر پرواز زیادہ تر حالات میں بلا تعطل جاری رہتی ہے، جس سے مقامی باشندوں کو آمدورفت میں آسانی ہوتی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں جزیروں کے درمیان پل تعمیر کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ اس پر بھاری لاگت آئے گی، موسم سخت ہے اور دونوں جزیروں کی مجموعی آبادی محض 600 کے قریب ہے۔ اسی لیے فضائی سروس کو ہی سب سے مؤثر حل قرار دیا گیا ہے۔
یہ مختصر ترین پرواز دنیا بھر کے سیاحوں اور ہوا بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بن چکی ہے، جو محض چند سیکنڈ کی فلائٹ کا تجربہ کرنے کے لیے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پرواز اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح محدود وسائل اور جغرافیائی مشکلات کے باوجود جدید ٹیکنالوجی سے مؤثر سفری حل نکالا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ پرواز جاتی ہے کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔