معروف میزبان، اداکارہ اور پروڈیوسر ندا یاسر کے اپنے حوالے سے کیے گئے ایک انکشاف نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔

ندا یاسر اس وقت بھی مارننگ شو کی سب سے زیادہ مقبول میزبان ہیں۔ وہ طویل عرصے سے شو کی میزبانی کا منفرد اعزاز بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔

ندایاسر نے ڈراموں میں بھی کام کیا اور ان کے والد بھی ڈراما انڈسٹری کی جانی مانی شخصیت ہیں اور شوہر یاسر نواز سے کون واقف نہیں۔

تاہم ندایاسر کو اصل مقبولیت ان کے مارننگ شو سے ملی ہے جو وہ 17 سال سے مسلسل کرتی آرہی ہیں اور آج بھی یہ مقبول شو ہے۔

علاوہ ازیں ندا کی ایک شہرت ان کے دلچسپ اور کبھی کبھی متنازع بیانات بھی ہیں جن پر ہمیشہ ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ جاتی ہے۔

اس بار انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے سر میں جوؤں کی بھرمار ہو گئی تھی۔

ندا یاسر نے مزید بتایا کہ انھوں نے دبئی سے ہیئر ایکسٹینشنز لگوائی تھیں۔ جسے مکمل طریقے سے بالوں میں سلوایا گیا تھا اور وہ دیکھنے میں نہایت خوبصورت بھی لگ رہی تھیں۔

ندا یاسر کے بقول میں لمبے بال پا کر بے حد خوش تھیں اور باقاعدگی سے ایکسٹینشنز کو شیمپو بھی کرتی تھیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شیمپو کے بعد ان کے قدرتی بال تو جلد خشک ہو جاتے تھے لیکن جس حصے میں ایکسٹینشنز لگی ہوتی تھیں وہ اکثر نم رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ جگہ جوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔

ندا یاسر نے مزید بتایا کہ میں نے فوراً پارلر جا کر ہیئر ایکسٹینشنز اتروا دیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

سوشل میڈیا صارفین اس انکشاف پر ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں، کچھ لوگ ندا کی ایمانداری کو سراہ رہے ہیں کہ انھوں نے ایک ایسی چیز کا برملہ اعتراف جسے کم ہی لوگ کسی کو بتا پاتے ہیں۔

تاہم کچھ صارفین نے اس واقعے کو ان کے حد سے زیادہ ذاتی تجربات کے انکشاف کی ایک اور مثال قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ندا یاسر

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف