سر میں جوؤں نے ڈیرہ جمالیا تھا؛ ندا یاسر کے بیان پر نئی بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
معروف میزبان، اداکارہ اور پروڈیوسر ندا یاسر کے اپنے حوالے سے کیے گئے ایک انکشاف نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔
ندا یاسر اس وقت بھی مارننگ شو کی سب سے زیادہ مقبول میزبان ہیں۔ وہ طویل عرصے سے شو کی میزبانی کا منفرد اعزاز بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔
ندایاسر نے ڈراموں میں بھی کام کیا اور ان کے والد بھی ڈراما انڈسٹری کی جانی مانی شخصیت ہیں اور شوہر یاسر نواز سے کون واقف نہیں۔
تاہم ندایاسر کو اصل مقبولیت ان کے مارننگ شو سے ملی ہے جو وہ 17 سال سے مسلسل کرتی آرہی ہیں اور آج بھی یہ مقبول شو ہے۔
علاوہ ازیں ندا کی ایک شہرت ان کے دلچسپ اور کبھی کبھی متنازع بیانات بھی ہیں جن پر ہمیشہ ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ جاتی ہے۔
اس بار انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے سر میں جوؤں کی بھرمار ہو گئی تھی۔
ندا یاسر نے مزید بتایا کہ انھوں نے دبئی سے ہیئر ایکسٹینشنز لگوائی تھیں۔ جسے مکمل طریقے سے بالوں میں سلوایا گیا تھا اور وہ دیکھنے میں نہایت خوبصورت بھی لگ رہی تھیں۔
ندا یاسر کے بقول میں لمبے بال پا کر بے حد خوش تھیں اور باقاعدگی سے ایکسٹینشنز کو شیمپو بھی کرتی تھیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ شیمپو کے بعد ان کے قدرتی بال تو جلد خشک ہو جاتے تھے لیکن جس حصے میں ایکسٹینشنز لگی ہوتی تھیں وہ اکثر نم رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ جگہ جوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔
ندا یاسر نے مزید بتایا کہ میں نے فوراً پارلر جا کر ہیئر ایکسٹینشنز اتروا دیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
سوشل میڈیا صارفین اس انکشاف پر ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں، کچھ لوگ ندا کی ایمانداری کو سراہ رہے ہیں کہ انھوں نے ایک ایسی چیز کا برملہ اعتراف جسے کم ہی لوگ کسی کو بتا پاتے ہیں۔
تاہم کچھ صارفین نے اس واقعے کو ان کے حد سے زیادہ ذاتی تجربات کے انکشاف کی ایک اور مثال قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ندا یاسر
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی کے علاقے کشمیر کالونی نالے والے روڈ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک 20 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسرا واقعہ ایف سی ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ اظہر احمد کے نام سے ہوئی۔
ادھر قیوم آباد میں جام صادق پل پر تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔