فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں، انڈیکس میں 890 پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز دوپہر کے وقت مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 890.78 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ منفی زون میں رہا۔
دوپہر 12 بجے تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,652.24 پوائنٹس پر آ گیا، جو 0.48 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اس دوران مجموعی طور پر 224.
مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ غالب رہا اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے رہے، جس کے باعث انڈیکس نمایاں کمی کا شکار ہوا۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -890.78 points (-0.48%) at midday trading. Index is at 184,652.24 and volume so far is 224.78 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/QhHEjcaP5r
— Investify Pakistan (@investifypk) January 9, 2026
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ میں وسیع بنیادوں پر اصلاحی سیشن دیکھنے میں آیا تھا، جب حالیہ تیز رفتار تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع خوری کی۔
اس تیزی کے باعث مارکیٹ گزشتہ چند سیشنز میں تاریخی بلند سطحوں تک پہنچ گئی تھی۔ جمعرات کو 100 انڈیکس 975.70 پوائنٹس یعنی 0.52 فیصد کمی کے ساتھ 185,543.01 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
عالمی سطح پر جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی جبکہ ایک اہم امریکی ملازمتوں کی رپورٹ سے قبل ڈالر مضبوط رہا۔
اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار گزشتہ سال منڈیوں کو ہلا دینے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے لیے بھی خود کو تیار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور دفاعی شعبے کے حصص میں اضافہ ہوا، جبکہ تاجروں کی توجہ وینزویلا کی صورتحال پر بھی مرکوز ہے، جہاں ہفتے کے روز کراکس میں امریکی افواج نے ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کی۔
جمعہ کے روز سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ممکنہ طور پر امریکی سپریم کورٹ کا ٹیرف سے متعلق فیصلہ رہے گا۔
اگر عدالت نے ان ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تو اس سے حکومتی آمدن متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کی نئی لہر آسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: نئے سال کا شاندار آغاز، اسٹاک مارکیٹ 176 ہزار پوائنٹس کی تاریخ ساز بلندی پر
فی الحال، مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے اہم واقعات سے قبل تاجر بڑے فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں۔ جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.3 فیصد نیچے رہا، جو ہفتے کے آغاز میں قائم ہونے والی ریکارڈ سطح سے معمولی کم ہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھ گیا، جس کی وجہ یونی کلو برانڈ چلانے والی کمپنی فاسٹ ریٹیلنگ کی مضبوط مالی کارکردگی اور مثبت پیش گوئیاں رہیں۔
یورپی اسٹاک فیوچرز میں بھی 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج ایشیائی اسٹاک پاکستان جاپان ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ سرمایہ کار سیاسی کشیدگی فیوچر یورپی اسٹاک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج ایشیائی اسٹاک پاکستان جاپان ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ سرمایہ کار سیاسی کشیدگی فیوچر یورپی اسٹاک
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم