بنوں میں 4 سالہ بچے کی شہادت کیخلاف احتجاج، لاش رکھ کر سڑک بند
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان:
بنوں تھانہ ٹاؤن شپ کی حدود میں مداخیل وزیر قوم سے تعلق رکھنے والا 4 سالہ بچہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد مداخیل وزیر قوم کے مشران اور علاقہ مکینوں نے بچے کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے سڑک بند کر دی جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی۔
مداخیل قومی مشر ملک رحمت اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا اور روڈ بند رکھا جائے گا۔
مشران نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے، 4 سالہ بچے کا قتل کھلی دہشت گردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔