پاکستان کی پہلی قومی جواہراتی پالیسی کی منظوری، ایک ارب ڈالر برآمدات کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے جواہراتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
جمعے کے روز جواہراتی شعبے سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تقریباً 450 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود سالانہ برآمدات محض 5.
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا وہ قیمتی پتھر جو صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے
وزیراعظم نے اس بڑے خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ 5 برسوں میں جواہرات کی برآمدات کا ہدف ایک ارب ڈالر مقرر کر دیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جواہرات و قیمتی پتھروں(Gemstones) کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی
اسلام آباد میں منعقدہ اعلی سطح اجلاس میں وزیرِ اعظم نے رواں برس پالیسی فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات… pic.twitter.com/u9jQsR2x2k
— PTV News (@PTVNewsOfficial) January 9, 2026
اجلاس میں وزیراعظم نے رواں سال 2 سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ تحقیق، جدت اور فنی مہارت کو فروغ دیا جا سکے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور باضابطہ سرٹیفکیشن نظام کے قیام کے احکامات بھی دیے گئے تاکہ عالمی سطح پر برانڈ پاکستان کی ساکھ مضبوط کی جا سکے۔
پالیسی فریم ورک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی اور نوجوان کاروباری افراد کو شعبے کی جدید کاری میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کھربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر سے مستفید ہو کر آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم نے زور دیا کہ غیر قانونی اسمگلنگ کے بجائے قانونی اور باضابطہ برآمدی نظام اپنانے سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملک بھر میں ایک جامع جیولوجیکل سروے کرایا جائے تاکہ قیمتی پتھروں کے ذخائر کی جغرافیائی نوعیت اور اصل مالیت کا درست تعین کیا جا سکے۔
ان ذخائر میں زمرد، یاقوت، پیریڈوٹ، ٹوپاز اور ایکوامیرین جیسے قیمتی پتھر شامل ہیں، منصوبے پر بروقت عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، ہارون اختر نے وزیراعظم کو ویلیو چین انٹیگریشن اور نیشنل وارنٹی آفس کے قیام سے متعلق بریفنگ دی۔
مزید پڑھیں:ریکوڈک پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرےگا، سی ای او بیرک گولڈ مارک برسٹ
یاد رہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے 16 دسمبر 2025 کو جواہراتی شعبے کے لیے ایک نئی اسٹیچوٹری اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جو قومی پالیسی کی نگران ہوگی، کاروباری سہولت فراہم کرے گی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنائے گی۔
حکام کے مطابق پاکستان کی اصل جواہراتی برآمدی صلاحیت 2 ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہے، تاہم طویل عرصے سے اس شعبے کا مستند ڈیٹا موجود نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ پاکستان زرمبادلہ سینٹرز آف ایکسیلنس شہباز شریف صنعت و پیداوار وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمگلنگ پاکستان زرمبادلہ سینٹرز آف ایکسیلنس شہباز شریف صنعت و پیداوار پالیسی فریم ورک شہباز شریف پاکستان کی ارب ڈالر کرنے کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔