وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے جواہراتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

جمعے کے روز جواہراتی شعبے سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تقریباً 450 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود سالانہ برآمدات محض 5.

8 ملین ڈالر تک محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا وہ قیمتی پتھر جو صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے

وزیراعظم نے اس بڑے خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ 5 برسوں میں جواہرات کی برآمدات کا ہدف ایک ارب ڈالر مقرر کر دیا۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جواہرات و قیمتی پتھروں(Gemstones) کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی

اسلام آباد میں منعقدہ اعلی سطح اجلاس میں وزیرِ اعظم نے رواں برس پالیسی فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات… pic.twitter.com/u9jQsR2x2k

— PTV News (@PTVNewsOfficial) January 9, 2026

اجلاس میں وزیراعظم نے رواں سال 2 سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ تحقیق، جدت اور فنی مہارت کو فروغ دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور باضابطہ سرٹیفکیشن نظام کے قیام کے احکامات بھی دیے گئے تاکہ عالمی سطح پر برانڈ پاکستان کی ساکھ مضبوط کی جا سکے۔

پالیسی فریم ورک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی اور نوجوان کاروباری افراد کو شعبے کی جدید کاری میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کھربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر سے مستفید ہو کر آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے زور دیا کہ غیر قانونی اسمگلنگ کے بجائے قانونی اور باضابطہ برآمدی نظام اپنانے سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملک بھر میں ایک جامع جیولوجیکل سروے کرایا جائے تاکہ قیمتی پتھروں کے ذخائر کی جغرافیائی نوعیت اور اصل مالیت کا درست تعین کیا جا سکے۔

ان ذخائر میں زمرد، یاقوت، پیریڈوٹ، ٹوپاز اور ایکوامیرین جیسے قیمتی پتھر شامل ہیں، منصوبے پر بروقت عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، ہارون اختر نے وزیراعظم کو ویلیو چین انٹیگریشن اور نیشنل وارنٹی آفس کے قیام سے متعلق بریفنگ دی۔

مزید پڑھیں:ریکوڈک پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرےگا، سی ای او بیرک گولڈ مارک برسٹ

یاد رہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے 16 دسمبر 2025 کو جواہراتی شعبے کے لیے ایک نئی اسٹیچوٹری اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جو قومی پالیسی کی نگران ہوگی، کاروباری سہولت فراہم کرے گی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنائے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان کی اصل جواہراتی برآمدی صلاحیت 2 ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہے، تاہم طویل عرصے سے اس شعبے کا مستند ڈیٹا موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ پاکستان زرمبادلہ سینٹرز آف ایکسیلنس شہباز شریف صنعت و پیداوار وزیر اعظم

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمگلنگ پاکستان زرمبادلہ سینٹرز آف ایکسیلنس شہباز شریف صنعت و پیداوار پالیسی فریم ورک شہباز شریف پاکستان کی ارب ڈالر کرنے کی کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف