گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ٹرمپ انتظامیہ مبینہ طور پر گرین لینڈ کے ہر رہائشی کو بھاری رقم کی پیشکش پر غور کر رہی ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کرنے اور ممکنہ طور پر امریکا کا حصہ بننے پر آمادہ کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر آرکٹک میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام کسی علاقے پر حملہ ہوا تو اس کے فوجی کمانڈرز کے احکامات کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر فائر کھول دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پہلے گولی بعد میں بات‘، ڈنمارک کی امریکا کو سخت وارننگ
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے گرین لینڈ کے باشندوں کو فی کس 10 ہزار سے 1 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس تجویز کو 57 ہزار آبادی پر مشتمل اس جزیرے کو ’خریدنے‘ کی ایک ممکنہ صورت قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ کوپن ہیگن اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک کی حکومتیں واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
Exclusive: US officials discussed sending lump sum payments to Greenlanders as part of a bid to convince them to secede from Denmark and potentially join the United States, according to four sources familiar with the matter https://t.
— Reuters (@Reuters) January 9, 2026
وائٹ ہاؤس میں زیرِ غور منصوبوں میں فوجی آپشن بھی شامل ہے، تاہم ماہرین کے مطابق براہِ راست رقم کی پیشکش ایک حساس اور تضحیک آمیز اقدام تصور کی جا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے عوام کے لیے جو طویل عرصے سے اپنی آزادی اور ڈنمارک پر معاشی انحصار کے بارے میں بحث کرتے آ رہے ہیں۔
ڈنمارک کی سخت وارننگڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ 1952 کے قواعد کار کے تحت اس کے فوجیوں کو حکم ہے کہ کسی بھی حملہ آور پر فوری حملہ کریں اور بعد میں سوالات پوچھیں۔
وزارت نے کہا کہ یہ ہدایت تاحال نافذ العمل ہے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
یہ بیان ایسے وقت دیا گیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’فوجی طاقت‘ بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے۔
گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس-فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا، الحاق کے خواب دیکھنا بند کیے جائیں۔
گرین لینڈ سے ٹرمپ کی دلچسپیصدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ گرین لینڈ اسٹریٹجک اور قومی سلامتی کے لحاظ سے امریکا کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر وہاں موجود قیمتی معدنی وسائل کے باعث جو جدید عسکری ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے انہیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔
’ڈنمارک یہ ذمہ داری نبھا نہیں سکتا۔ یہ علاقہ بے حد اسٹریٹجک ہے۔‘
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے
صدر ٹرمپ کے مشیروں میں گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے غور و فکر ان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں خاص طور پر وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں فی کس ایک لاکھ ڈالر تک ادائیگی کی تجویز کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 6 ارب ڈالر بن سکتی ہے۔
آزادانہ معاہدے کا آپشنوائٹ ہاؤس میں زیرِ غور ایک اور آپشن ’کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن‘ معاہدہ ہے، جیسا کہ امریکا نے ماضی میں مائکرونیشیا، مارشل آئی لینڈز اور پلاؤ کے ساتھ کیا تھا۔
اس قسم کے معاہدے کے تحت امریکا ضروری خدمات اور فوجی تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ بدلے میں اسے دفاعی اور تجارتی سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے لیے گرین لینڈ کو پہلے ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب
اگرچہ عوامی سروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کے اکثر باشندے آزادی کے خواہاں ہیں، مگر معاشی خدشات کے باعث اب تک آزادی پر ریفرنڈم کرانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگرچہ گرین لینڈ کے لوگ ڈنمارک سے علیحدگی کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، لیکن وہ امریکا کا حصہ بننے کے خواہشمند نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایئر فورس ون ڈنمارک ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ قومی سلامتی کوپن ہیگن گرین لینڈ مائکرونیشیا وائٹ ہاؤس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایئر فورس ون ڈونلڈ ٹرمپ قومی سلامتی کوپن ہیگن گرین لینڈ مائکرونیشیا وائٹ ہاؤس گرین لینڈ کے وائٹ ہاؤس کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز