گرین لینڈ مسئلہ: ’پہلے گولی بعد میں بات‘ ہوگا، ڈنمارک کی امریکا کو سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ڈنمارک نے امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ مداخلت کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس کے فوجی پہلے فائر کریں گے اور بعد میں سوالات کیے جائیں گے، یہ پالیسی 1952 سے نافذ فوجی قواعد کے عین مطابق ہے۔
Denmark to US on Greenland — 'We will shoot first, ask questions later'
The warning hinges on a standing 1952 rule that orders soldiers to repel an invasion instantly without waiting for command
Even if the aggressor is the United States pic.
— RT (@RT_com) January 8, 2026
ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو وہاں تعینات ڈینش فوجی بغیر کسی اعلیٰ حکم کے فوری جوابی کارروائی کریں گے۔ وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 1952 سے نافذ فوجی قواعدِ کار (Rules of Engagement) بدستور مؤثر ہیں، جن کے تحت کسی بھی حملہ آور کے خلاف فوراً کارروائی کرنا لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر گرین لینڈ کا حصول امریکا کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے لیے فوجی طاقت بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیح سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں امریکی فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام سے ملاقات کریں گے، تاہم ان کے مطابق صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، نہ کہ فوجی طاقت کے استعمال میں۔ ڈنمارک نے اس ملاقات کو ضروری سفارتی مکالمہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
JIST IN:
???????????????? Greenlandic and Danish PMs warns Trump to show 'RESPECT'
"You cannot annex another country"
Denmark's Mette Frederiksen and Greenland's Jens-Frederik Nielsen said in a joint statement
"Greenland belongs to the Greenlanders and the US shall not take over… pic.twitter.com/S0dvW30x5g
— Megatron (@Megatron_ron) December 22, 2025
ڈنمارک اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی مشترکہ بیان میں امریکا کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو اس سے نیٹو اتحاد اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی سیکیورٹی نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پہلے گولی ٹرمپ ڈنمارک کیرولین لیوٹ گرین لینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پہلے گولی کیرولین لیوٹ گرین لینڈ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔