رمضان المبارک ،وزیر اعظم کی موثر پیکج تیار کرنے کی ہدایت،ٹار گٹڈ سبسڈی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
رمضان المبارک ،وزیر اعظم کی موثر پیکج تیار کرنے کی ہدایت،ٹار گٹڈ سبسڈی کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز
اسلام آبادوزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام کے لیے سودمند اور مثر پیکیج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان پیکیج اور پچھلے سال کے رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکیج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکیج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ۔ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکیج اور سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ غریب عوام کو رمضان پیکیج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رمضان پیکیج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکیج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔ مثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکیج کو موثر اور شفاف قرار دیا ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک امریکا تعلقات مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع پاک امریکا تعلقات مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع عمران خان کو جیل سے نکالیں گے، پورا پاکستان بند کریں گے، نہیں چلنے دیں گے، علیمہ خان افغان طالبان رجیم کے 4 سالہ دور میں ہونے والی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری پاک امریکا تعلقات تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جلد متوقع کینسر کے مریضوں کیلئے امید کی نئی کرن، ادویات مفت دستیاب ہوں گی، وفاقی وزیر صحت پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اماراتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی خوش آئند ہے، وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کرنے کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔