غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
یہ ہدایات انہوں نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں، جس میں ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان کی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاوزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو کسی بھی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم ملک کے وقار کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔
امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایتمحسن نقوی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ امیگریشن قوانین پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ہوائی اڈوں پر امیگریشن چیکنگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکماجلاس میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے اس مافیا اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس نیٹ ورک کو ہر صورت ختم کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مافیا کے خلاف محسن نقوی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔