انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اویس کیانی :وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ کی کارکردگی ،غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے جاری مہم کاتفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے افسران کو غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی جاری رکھنے کے احکامات دئیے اور پیشہ ور بھکاری مافیا اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف بھی موثر کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا ۔
نیتن یاہو کی کرپشن کا کیس سننے والا جج ٹریفک حادثہ میں ہلاک
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،پاکستان کے نام پر کسی صورت حرف آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ایئرپورٹس پر امیگریشن چیکنگ کے نظام کو موثر بنایا جائے، ایئرپورٹس پر سفری دستاویزات کی سخت سکریننگ کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے کو امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹرز کراچی اور لاہور زون نے شرکت کی۔
بلوچستان تعلیمی بورڈ میں ایچ ایس ایس سی 2024 کے نتائج میں مبینہ ردوبدل کا انکشاف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔