بنگلہ دیش کے ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کا دورہ کیا جہاں دوطرفہ فوجی تعاون پر زور دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس دورے کے دوران معزز مہمان نے لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار، صدر این ڈی یو سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ملاقات کی، ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس 2010/11 کے سابق طالب علم ہیں۔ اس موقع پر فریقین نے عسکری تعاون، بالخصوص پیشہ ورانہ عسکری تعلیم اور مشترکہ تربیت کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا اور فوج سے فوج کے روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات اور دفاعی تعاون و تربیت کو مزید گہرا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ قبل ازیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بنگلہ دیشی ایئر فورس کے چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے ملاقات کی، باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فریقین نے پاک، بنگلہ دیش مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ تعاون، تربیتی تبادلوں اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ علاوہ ازیں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے بھی بنگلہ دیش کے ایئر چیف کی ملاقات ہوئی، باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا، دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا، دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم