فائل فوٹو 

کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں شوہر نے فائرنگ کرکے بیوی کو قتل کردیا، ملزم پولیس افسر ہے جو واقعے کے بعد فرار ہوگیا۔

پولیس کے مطابق خاتون گھر سے باہر نکلی تو ملزم تبسم شیخ بھی وہاں پہنچا، تلخ کلامی کے بعد اس نے فائرنگ کردی، جس سے خاتون زخمی ہوگئی، جو اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئی۔ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ 

ریسکیو اور پولیس حکام کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ 

ایک مرلہ زمین کیلئے چچا نے کمسن بھتیجے کو قتل کردیا، ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق 6 سالہ فراز علی کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ خاتون کو شوہر نے شک کی بنیاد پر فائرنگ کرکے قتل کیا اور ملزم فرار ہوگیا، جس کی تلاش جاری ہے۔ تاہم بعد میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والا ملزم پولیس افسر ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق ملزم تبسم شیخ ایس آئی یو میں تعینات سب انسپکٹر ہے اور مقتولہ اس کی دوسری بیوی تھی۔ 

عرفان بلوچ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فائرنگ کرکے کے مطابق کو قتل

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت