کراچی: شادمان ٹاؤن میں پولیس افسر نے فائرنگ کرکے بیوی کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں شوہر نے فائرنگ کرکے بیوی کو قتل کردیا، ملزم پولیس افسر ہے جو واقعے کے بعد فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق خاتون گھر سے باہر نکلی تو ملزم تبسم شیخ بھی وہاں پہنچا، تلخ کلامی کے بعد اس نے فائرنگ کردی، جس سے خاتون زخمی ہوگئی، جو اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئی۔ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
ریسکیو اور پولیس حکام کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق 6 سالہ فراز علی کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ خاتون کو شوہر نے شک کی بنیاد پر فائرنگ کرکے قتل کیا اور ملزم فرار ہوگیا، جس کی تلاش جاری ہے۔ تاہم بعد میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والا ملزم پولیس افسر ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق ملزم تبسم شیخ ایس آئی یو میں تعینات سب انسپکٹر ہے اور مقتولہ اس کی دوسری بیوی تھی۔
عرفان بلوچ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فائرنگ کرکے کے مطابق کو قتل
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔