مقبوضہ کشمیر کے عوام کا حق خودارادیت، یو این او قراردادوں پر عمل کرائے: او آئی سی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) او آئی سی نے 6 جنوری 1949ء کی یو این کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جس میں عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا، او آئی سی کے مطابق یو این قرارداد آج بھی تنازع جموں و کشمیر کے حل کیلئے قانونی فریم ورک ہے۔ او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حیثیت کا احترام کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر پر 5 اگست 2019ء اور اس کے بعد کے تمام اقدامات واپس لئے جائیں اقوام متحدہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور حتمی حل یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔