سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس پر بھائیوں کے ہوٹل پر قبضہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

تھانہ کینٹ پولیس نے سردار تنویر الیاس سمیت 13 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، سردار تنویر الیاس کے خلاف راجہ شہزاد سلطان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سردار تنویر الیاس کی ایما پر ان کے سپروائزر نے مسلح افراد کے ہمراہ سردار یاسر الیاس کے ہوٹل پر قبضہ کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد کی جانب سے عملے کو ذدوکوب کیا گیا جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

درخواست گزار کے مطابق مسلح افراد کے ہمراہ سردار تنویر الیاس کے سپروائزر نے کہا کہ ہوٹل سردار تنویر الیاس کا ہے اسے خالی کرو، آدم جی روڈ پر الشمس ہوٹل سردار یاسر الیاس اور سردار راشد الیاس کی جائیداد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہری کو دھمکیاں دینے پر سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کے 3 بیٹے ساتھیوں سمیت گرفتار

ایف آئی آر میں درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سردار تنویر الیاس کے سپروائزر اکرام الحق نے سیکیورٹی گارڈ کو حبس بیجا میں رکھا، سردار تنویر الیاس کے کارندوں سے اسلحہ کے زور پر ہوٹل پر قبضہ کرلیا ہے۔

تھانہ کینٹ پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آزاد کشمیر بھائی راولپنڈی سابق وزیراعظم مقدمہ درج ہوٹل یاسر الیاس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھائی راولپنڈی ہوٹل یاسر الیاس سردار تنویر الیاس کے ہوٹل پر قبضہ

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر