مودی نے ملک کی خارجہ پالیسی کو گہری چوٹ پہنچائی ہے، ملکارجن کھڑگے
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کانگریس صدر نے کہا کہ اب چینی کمپنیوں کے لیے سرخ قالین بچھانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کا سخت رویہ محض نعرے تک محدود تھا۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی قیادت والی حکومت نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر غیر وابستگی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے اصولوں کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بھاتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک کو جھکنے نہیں دیں گے، زمینی حقیقت سے بالکل متصادم ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں حکومت کے فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ایک مستحکم سمت کے بجائے تضادات کا شکار ہوچکی ہے۔ ملکارجن کھڑگے کے مطابق پہلی مثال چین سے متعلق پالیسی ہے، جہاں پانچ سال قبل عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی وادی گلوان کے واقعہ کے بعد چین کو کلین چٹ دے چکے ہیں، جس سے بہادر ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں کی توہین ہوئی۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اب چینی کمپنیوں کے لیے سرخ قالین بچھانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کا سخت رویہ محض نعرے تک محدود تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس "سرخ آنکھ" کی بات کی جاتی تھی، وہ چین کے سامنے بے اثر دکھائی دے رہی ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے دوسری مثال امریکہ کے حوالے سے پیش کی۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ ہندوستان کی جانب سے روسی تیل کی درآمد پر تبصرے کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے، جو ایک خودمختار خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی جماعت کے نزدیک خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی سیاسی مصلحتوں پر۔ ان کا الزام تھا کہ مودی حکومت نے غیر صف بندی اور اسٹریٹجک خودمختاری جیسے بنیادی اصولوں کو کمزور کر دیا ہے۔ ملکارجن کھڑگے کے مطابق موجودہ خارجہ پالیسی ایک بے قابو پنڈولم کی طرح جھول رہی ہے، جس کے منفی اثرات براہ راست ہندوستانی عوام پر پڑ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے خارجہ پالیسی نے کہا کہ انہوں نے رہی ہے بات کی کی بات
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔