نئے مالی سال کا بجٹ، کاروباری برادری سے تجاویز طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے مالی سال 27-2026ء کے بجٹ پر ایف بی آر فیلڈ فارمشنز کے بعد اب کاروباری برادری سے بھی تجاویز طلب کرلیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس ضمن میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور تاجر تنظموں سے کہا گیا ہے کہ 30 جنوری 2026ء تک بجٹ تجاویز ٹیکس پالیسی آفس کو ارسال کردیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا، اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے جو بجٹ تجاویز بھجوائی ہیں ان کے ساتھ اس کے جواز بھی پیش کیے جائیں اوریہ بھی بتایا جائے کہ کس تجویز کا ٹیکس ریونیو پر کیا اثرپڑے گا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب چونکہ ٹیکس پالیسی آفس آپریشنل ہوچکا ہے اس لئے اب ایف بی آر کے بجائے وزارت خزانہ بجٹ تیار کرے گی۔ ٹیکس پالیسی آفس کو ٹیکس اصلاحات کی مکمل ذمہ داری دے دی گئی۔ بجٹ سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ، ترجیحات بھی طے ہوگئی ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق برآمدات بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ترجیح ہے، نئے بجٹ میں صنعتوں پر ٹیکس بوجھ کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت مینوفیکچرنگ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلیے پرعزم ہے۔
نئے بجٹ میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ٹیکس سہولتوں پرغور کیا جارہا ہے، ماحول دوست اور سستی توانائی منصوبوں کو ترجیح قرار دے دیا گیا۔ خواتین کی ملازمت اور نوجوانوں کے روزگار پر توجہ دی جائے گی حکومت ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں اور نا انصافیاں ختم کرنے کا عزم ہے، تجارتی تنظیموں کو ٹیکس تجاویز ای میل یا بذریعہ ڈاک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ نے بجٹ تجاویز کیلئے خصوصی فارم بھی جاری کر دیا، ٹیکس تجاویز، بیک گراوٴنڈ اورقوانین میں ترامیم کا جواز بھی دینا ہوگا۔ تجاویز میں ریونیو اور معاشی اشاریوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بتانا لازمی ہوگا، ٹیکس تجاویز سے کسی خاص کاروباری شعبے پرممکنہ اثرات کے بارے میں بھی آگاہ کرنا ہوگا، صرف ٹھوس ٹیکس تجاویز کو ہی بجٹ سازی کے دوران ترجیح دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکس پالیسی آفس ٹیکس تجاویز
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔