ٹیکس دینے میں تنخواہ دار طبقہ پھر آگے، 6 ماہ میں 226 ارب ٹیکس دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ایک بار پھر ٹیکس دینے میں تنخواہ دار طبقہ سب سے آگے نکل گیا۔
نہ کاروباری برادری ، نہ ریئل اسٹیٹ ، نہ زراعت، جولائی سے دسمبر دو ہزار پچیس میں سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقے نے دیا جو دو سو چھبیس ارب روپے ہے۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے دیا گیا یہ ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے دُگنا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ رہا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تنخواہ دار
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔