Express News:
2026-07-24@06:46:28 GMT

عوام کو اب جینے بھی دیں

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

حکومت نے رواں برس گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ گیس کا سرکلر ڈیٹ تین کھرب روپے سے زائد ہے اور قطر نے پاکستان کی مشکل صورت حال میں کنٹریکٹ کی شرائط برقرار رکھی ہیں اور اسی لیے حکومت نے قوم پر یہ احسان کیا ہے جب کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی نہیں بلکہ برادر مسلم ملک قطرکا یہ احسان ہے جس نے کنٹریکٹ برقرار رکھا ہے ورنہ حکومت نے ڈھائی سال میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا اور حکومت کا سارا زور بجلی وگیس کی قیمتیں مسلسل بڑھانے پر ہی رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات میں جو نرخ کم ہوئے ہیں وہ حکومت کی عوام پر مہربانی نہیں یا کوئی ریلیف نہیں بلکہ عالمی طور پر پٹرول کی قیمت کم ہونے پر نرخ کم ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے عالمی نرخ کم ہونے کے باوجود لیوی بڑھانے کا ریکارڈ بنایا ہے، تاکہ عالمی طور پر پٹرولیم مصنوعات کے اگر نرخ کم بھی ہوں تو عوام کو اس کا فائدہ بھی پہنچنے دیا جائے اور لیوی مزید بڑھا کر حکومتی آمدنی مزید بڑھا لی جائے۔

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی اورگیس کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام پر ہر سال مزید ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں اور حکومت کا اپنی آمدنی بڑھانے کا آسان ہدف تنخواہ دار ملازمین اور عوام ہیں۔ محکمہ خزانہ ہر سال دعوے تو بڑے کرتا ہے مگر سینٹرل بورڈ آف ریونیو محکمہ کا خواب پورا نہیں ہونے دیتا۔ سی بی آر ملک کے صنعتکاروں اور تاجروں سے من مانے ٹیکس وصول کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا ہے اور حکومت کبھی صنعتکاروں اور تاجروں کو اعتماد میں لینے کے قابل ہی نہیں سمجھتی اور محکمہ خزانہ کے مشوروں پر چلتی اور ٹیکسوں میں اضافہ یا نئے ٹیکس لگاتی رہتی ہے۔

جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے تنخواہ دار افراد سے 266 ارب روپے صرف انکم ٹیکس وصول کیا ہے۔ حکومت کو شکایت ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ حکومت ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی آ رہی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ ہر چیز پر وصول کیا جانے والا ٹیکس ایف بی آر اور صنعتکاروں کی باہمی ملی بھگت سے قومی خزانہ میں جمع نہیں کرایا جاتا یا کم جمع ہوتا ہے۔ گھی، تیل، صابنوں اور اشیائے خوردنی کی ہر پیک چیز جس میں چائے کی پتی بھی شامل ہے، ٹیکس لکھا ہوتا ہے جو بہت زیادہ ہوتا ہے۔

حکومت نے عوام کے استعمال کی ضروری اشیا پر مختلف ٹیکس لگا رکھے ہیں جب کہ بجلی بلوں پر سیلز ٹیکس اور سوئی گیس کے بلوں پر فکسڈ چارجز لگا کر ظلم کی انتہا کر رکھی ہے اورگیس کے گھریلو صارفین جو نوے یونٹ سے کم گیس استعمال کرتے ہیں، 6 سو سے ایک ہزار روپے، ہرگیس بل میں شامل ہوتے ہیں اور اسٹینڈرڈ کے نام سے الگ اضافی رقم بلوں کی رقم سے وصول کی جا رہی ہے اور بجلی بل میں الیکٹرسٹی ڈیوٹی بھی وصول کی جا رہی ہے۔ حکومت سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ زیادہ کر رہی ہے جب کہ گرمیوں میں گیس صرف چولہوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، وہ بھی پوری نہیں دے رہی اورگرمیوں میں بھی گھروں کو دن رات نہیں مخصوص وقت کے لیے ملتی ہے۔

 سوئی سدرن گیس کمپنی نے تو عوام کی کھال کھینچنے کی انتہا کر رکھی ہے اور اس نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صرف 47 یونٹ بجلی کے بل پر گیس چارجز 352 روپے بنتے ہیں جس پر نہ جانے کون سا اسٹینڈرڈ ہے جس کے 178 روپے اور جس گیس میٹر کی رقم کمپنی وصول کر چکی ہے اس کا کرایہ چالیس روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ گیس چارجز، اسٹینڈرڈ اور میٹر رینٹ ملا کر جو بل 570 روپے ہے اس پر فکسڈ چارجز 6 سو روپے وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اس پر کبھی ٰ عدلیہ نے بھی باز پرس نہیں کی اس طرح وہ گیس صارف لوٹے جا رہے ہیں جنھیں گیس بھی پوری نہیں دی جا رہی اور حکومت یہ احسان جتا رہی ہے کہ وہ رواں سال گیس کی قیمت نہیں بڑھائے گی۔

حکومت پٹرولیم مصنوعات اور گیس باہر سے خرید کر عوام کی ضرورت پوری کرنے کے دعوے کرتی ہے اور دونوں ہی حکومت کی زیادہ آمدنی کا ذریعہ ہیں جب کہ ملک میں بھی پٹرول اور گیس کے ذخائر موجود ہیں پھر بھی دونوں اشیا کے نرخ عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں مگر حکومت اپنے ٹیکس کم کرکے عوام کو کوئی ریلیف دینے پر تیار نہیں۔ بجلی ملک میں ہی بنتی ہے باہر سے نہیں آتی مگر سابقہ اور موجودہ حکومتوں سے سارا فائدہ بجلی کمپنیوں کو دے رکھا ہے اور بے انتہا مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ایران میں مہنگائی برائے نام اور حکومتی سہولیات زیادہ ہیں مگر وہاں اب عوام سڑکوں پر ہیں جب کہ ملک میں موجودہ حکومت نے مہنگائی و بے روزگاری کی انتہا کر دی ہے جس نے عوام کا جینا دوبھرکردیا ہے توکیا عوام کو سڑکوں پر آ کر ریلیف دیا جائے گا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات اور حکومت حکومت نے عوام کو وصول کی وصول کر گیس کی رہی ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار