کوئٹہ، چھوٹے شہر میں وی آئی پی موومنٹ عوام کیلئے عذاب بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی کوئٹہ آمد پر پہلے استقبال کیلئے جانیوالے وزراء کیلئے سڑکیں بند کی گئیں، بعد ازاں وزیراعظم اور دیگر حکومتی اراکین کی ائیر پورٹ سے واپسی پھر بھی عوام کو انتظار کروایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں وزیراعظم شہباز شریف کی آمد کے موقع پر وی آئی پی موومنٹ نے عوام کو رلا دیا۔ شہر کی اہم شاہراہیں بند کرکے عوام کو گھنٹوں تک انتظار کروایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق آج وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے کے لئے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پہنچے، تو پہلے وزیراعظم کے استقبال کے لئے جانے والے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کی سکیورٹی کے لئے سڑکیں بند کی گئیں، بعد ازاں وزیراعظم اور دیگر حکومتی اراکین کی ائیر پورٹ سے واپسی پھر بھی عوام کو انتظار کروایا گیا۔ واضح رہے کہ کوئٹہ شہر چھوٹا ہونے کی وجہ سے چند سڑکیں نقل و حرکت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ جن کی بندش سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ زرغون روڈ اور ائیرپورٹ روڈ بھی انہی سڑکوں میں شامل ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، آئی جی پولیس اور سیکرٹریز سمیت کسی بھی اہم شخصیت کی نقل و حرکت کی صورت میں ان سڑکوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں وی آئی پی کلچر عوام کے لئے مستقل عذاب بن چکا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عوام کو گھنٹوں انتظار کروایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی نقل و حرکت کے دوران ایسا ہوا ہے۔ تاہم حکومت عوام کے شکوہ کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتظار کروایا گیا عوام کو کے لئے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔