ایرانیوں کا قاتل ایرانی شہریوں کا ہمدرد کیسے ہوسکتا ہے: آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری احتجاجی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی صورت میں کرائے کے عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ بدامنی کے دوران کچھ شرپسند عناصر دانستہ طور پر عوامی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ بیرونی طاقتوں، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کو خوش کیا جا سکے، جو لوگ بیرونی بیانات سے متاثر ہو رہے ہیں، وہ نادانستہ طور پر دشمن کے عزائم کو تقویت دے رہے ہیں۔
سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایسے شخص کا خود کو مظاہرین کا ہمدرد ظاہر کرنا محض منافقت ہے، جو شخص ایرانی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار رہا ہو، وہ ان کے حقوق کی بات کیسے کر سکتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ چند کم عقل اور ناتجربہ کار افراد ٹرمپ جیسے بیانات سے متاثر ہو جاتے ہیں، حالانکہ امریکی قیادت کو پہلے اپنے ملک میں جاری مظاہروں اور اندرونی بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے، تہران سمیت دیگر شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور تخریب کاری میں منظم شرپسند عناصر ملوث ہیں۔
سپریم لیڈر نے ایرانی نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نوجوان متحد ہیں اور کسی بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کرائے کے فوجیوں یا فساد پھیلانے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جو 28 دسمبر سے شروع ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔