اتر پردیش میں ہندوتوا حکومت کے تحت ایک اور متنازع اقدام سامنے آیا ہے، جہاں 4 جنوری 2025 کو ضلع سنبھل کے گاؤں حاجی پور میں ایک مسجد اور مدرسہ کو زبردستی مسمار کر دیا گیا۔

اس کارروائی نے مقامی مسلم آبادی میں خوف، غصے اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مذہبی و تعلیمی عمارتیں کئی دہائیوں سے زیرِ استعمال تھیں، تاہم حکام نے انہیں سرکاری زمین پر تجاوزات قرار دیتے ہوئے مسمار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عوامی زندگی سے موجودگی ختم کرنے اور ہندو اکثریتی غلبے کو مضبوط کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے۔

مسجد کے نمائندوں نے سرکاری مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ زمین قانونی طور پر مذہبی اور تعلیمی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب حکام نے مسجد کی انتظامی کمیٹی پر 78.

8 لاکھ بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا، جسے متاثرہ برادری نے ناانصافی قرار دیا ہے۔

مقامی علمائے کرام نے ان کارروائیوں کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ متنازع زمینوں پر قائم ہندو مندروں اور دیگر ڈھانچوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی بزنس مین انیل اگروال کے بیٹے اگنی ویش اگروال انتقال کرگئے

یہ واقعہ کوئی واحد مثال نہیں۔ گزشتہ 14 ماہ کے دوران ضلع سنبھل میں ایک درجن سے زائد اسلامی مقامات کو مسمار یا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ مزید برآں، 20 دسمبر 2025 کو تاریخی شاہی جامع مسجد سے متصل قبرستان کے قریب واقع دو درجن سے زائد دکانوں اور گھروں کو بھی منہدم کر دیا گیا تھا، جسے مقامی افراد نے انتہائی غیر حساس اقدام قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعات بھارت میں اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں، کے خلاف ریاستی سرپرستی میں اقدامات اور بڑھتے ہوئے خوف کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا بھارت مدرسہ مسجد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیا بھارت کر دیا

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ