پیسوں کی لالچ اور بیوی کا بہکاوا؛ سی آئی اے ایجنٹ کی گرفتاری سے عبرتناک انجام تک
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق افسر اور تاریخ کے سب سے خطرناک غداروں میں شمار ہونے والے ایلڈرچ ایمز کا حال ہی میں 84 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔
سرد جنگ کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انتہائی حساس راز سوویت یونین کو فروخت کرنے والا ایلڈرچ ایمز، انتقال کے وقت امریکا میں میری لینڈ کی ایک وفاقی جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہا تھا۔
یاد رہے کہ اس کیس میں متعدد مغربی ایجنٹس بے نقاب ہوئے تھے جن میں سے کئی کو پھانسی دے دی گئی تھی اور ایلڈرچ ایمز کو عمر قید سنائی گئی تھی۔
31 سال سی آئی اے میں ملازمت کرنے والے ایلڈرچ ایمز نے سرد جنگ کے حساس ترین محاذوں پر تعینات رہ کر خدمات انجام دیں جن میں ترکی، میکسیکو اور روم بھی شامل ہیں۔
ایلڈروچ ایمز کبھی نہ پکڑا جاتا لیکن اس کے پُرتعیش لائف اسٹائل نے بھانڈا پھوڑ دیا جیسے اُس دور میں نقد رقم سے 5 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا گھر خریدنا۔
لگژری اور جدید گاڑی میں سفر کرنا، مہنگے برانڈ کے سوٹ پہننا اور دانتوں کی کاسمیٹک سرجری کروانا بھی صاف اشارہ تھے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔
مگر سی آئی اے کی اندرونی تفتیش سست روی کا شکار رہی۔ بالآخر ایف بی آئی نے 1993 میں مداخلت کی جس کے بعد ایمز پکڑا گیا۔
اُسے 21 فروری 1994 کو ورجینیا میں اس کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا اور ایلڈرچ نے عدالت کے سامنے اپنے ہولناک جرائم کا اعتراف کیا۔
ایلڈرچ ایمز نے بتایا کہ 1985 سے فروری 1994 تک سوویت یونین اور بعد ازاں روس کو حساس امریکی راز فراہم کیے اور اس کے بدلے 25 لاکھ ڈالر رقم حاصل کی۔
ایمز کے بقول اس نے نظریے یا سیاست کے لیے نہیں بلکہ صرف پیسے اور پرتعیش طرزِ زندگی کے لیے غداری کی تاکہ وہ اور اس کی دوسری اہلیہ عیش و عشرت کی زندگی گزار سکیں۔
گو عدالت میں ایمز نے اپنے جرائم پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار تو کیا لیکن ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی جاسوسی سے نہ امریکا کا کوئی بڑا نقصان ہوا، نہ سوویت یونین کو کوئی غیر معمولی فائدہ پہنچا۔
اس نے یہاں تک بھی کہا کہ عالمی جاسوسی کی جنگیں “سائیڈ شو” ہیں جن کا قومی سلامتی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔
استغاثہ کے مطابق ایلڈرچ ایمز نے تقریباً 10 روسی اور ایک مشرقی یورپی افسر کی شناختیں سوویت انٹیلی جنس کے حوالے کیں جو امریکا یا برطانیہ کے خفیہ ایجنس کے طور پر کام کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ ایلڈرچ ایمز نے جاسوس سیٹلائٹ آپریشنز، خفیہ نگرانی اور جاسوسی طریقۂ کار سے متعلق بھی اہم معلومات دشمن کو فراہم کی تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایمز کی غداری کے باعث آئرن کرٹن کے پیچھے کام کرنے والے کئی مغربی ایجنٹس کو سزائے موت دی گئی اور امریکا اپنے قیمتی انٹیلی جنس ایجنٹس سے محروم ہوگیا۔
سی آئی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جیمز وولسی نے ایمز کو ایک قاتل ذہنیت کا غدار قرار دیا تھا۔
ایلڈروچ ایمز کی اہلیہ روزاریو ایمز نے بھی جاسوسی میں مدد کرنے کا اعتراف کیا تھا اور 63 ماہ قید کی سزا پائی۔ رہائی کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ کولمبیا واپس چلی گئیں۔
یاد رہے کہ ایلڈرچ ایمز کی جاسوسی کا دورانیہ ایف بی آئی کے غدار افسر رابرٹ ہینسن سے بھی ملتا ہے۔
جس نے 14 لاکھ ڈالر اور ہیروں کے عوض اہم ملکی راز فروخت کیے تھے اور جو 2023 میں جیل ہی میں 79 برس کی عمر میں ہلاک ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی آئی اے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔