data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمات کے بعد دنیا ایک بار پھر ایک ایسی تلخ حقیقت سے دوچار ہو چکی ہے جسے جدید دور میں دفن سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام کسی نئی شکل میں نہیں، بلکہ اسی پرانی، بے رحم اور سفاک روح کے ساتھ واپس مسلط کیا جا رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب توپ و تفنگ، براہِ راست قبضے اور جھنڈے گاڑنے کے بجائے معاشی پابندیاں، قانونی ہتھکنڈے، سفارتی دباؤ، میڈیا مہمات اور سیاسی انجینئرنگ استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ محض وینزویلا کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاستی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن پر کھلا حملہ ہے۔ اگر آج ایک خودمختار ملک کے منتخب صدر کو عالمی طاقت کی منشا کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تو کل کسی بھی ملک کی قیادت، کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور کسی بھی قوم کا مستقبل محفوظ نہیں رہے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود کو ’’آزاد دنیا کا رہنما‘‘ کہلوانا پسند کرتا ہے، آج عملاً ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آ چکا ہے۔ وہ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دیتا ہے، ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے، اور حکومتیں گرانے کو باقاعدہ سفارتی حکمت ِ عملی کا حصہ بنا چکا ہے۔ یہ وہی اندازِ حکمرانی ہے جو ماضی میں نوآبادیاتی قوتوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا بس اب زبان بدلی ہے، رویہ نہیں۔

وینزویلا کیوں نشانہ بنا؟ یہ سوال کسی خفیہ فائل، کسی سازشی تھیوری یا کسی مبہم تجزیے میں پوشیدہ نہیں۔ اس کا جواب وینزویلا کی زمین کے نیچے دفن ان بے پناہ تیل کے ذخائر میں ہے جو اسے دنیا کے قدرتی وسائل سے مالا مال ترین ممالک میں شامل کرتے ہیں۔ امریکا کو نہ وہاں کی جمہوریت سے دلچسپی ہے، نہ انسانی حقوق سے، نہ عوامی فلاح سے۔ اسے صرف ایک چیز چاہیے: کنٹرول۔ اسی کنٹرول کے لیے وینزویلا پر برسوں سے معاشی پابندیاں مسلط کی گئیں، بینکاری نظام کو مفلوج کیا گیا، عالمی منڈیوں تک رسائی روکی گئی، ادویات اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالیں گئیں، اور پھر انہی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کو حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اپوزیشن کو کھلی سرپرستی دی گئی، بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اب اس تمام دباؤ کے بعد براہِ راست قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کسی بین الاقوامی قانون، کسی اخلاقی اصول یا کسی عالمی ضابطے کے تحت نہیں، بلکہ محض طاقت کے نشے میں کیا جا رہا ہے۔ طاقت جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک اور خطرناک پہلو عالمی طاقتوں اور اداروں کی خاموشی ہے۔ وہ قوتیں جو خود کو ’’بین الاقوامی امن کے ضامن‘‘ کہتی ہیں، آج یا تو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں یا بے بسی کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور نام نہاد جمہوری بلاک سب ایک بار پھر امریکی من مانی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ خاموشی محض کمزوری نہیں، بلکہ جرم میں شراکت ہے۔ جب عالمی ادارے طاقتور کے ظلم پر آنکھ بند کریں اور کمزور کی فریاد کو نظر انداز کر دیں، تو وہ خود اپنے وجود کے جواز سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ قانون صرف کمزور پر لاگو ہو اور طاقتور کے لیے غیر مؤثر ہو جائے۔ یہی امریکی طرزِ عمل ہمیں غزہ میں بھی نظر آتا ہے۔ ایک طرف غزہ کو تہس نہس کرنے والا، اسی ہزار سے زائد انسانوں کے قتل کا ذمے دار نیتن یاہو ہے، جو امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف وہ ریاستیں اور قیادتیں ہیں جو امریکی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کی جسارت کریں، تو ان پر پابندیاں، بغاوتیں، کردار کشی اور مقدمات مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے: تابعداری کرو، یا تباہی کے لیے تیار رہو۔ یہ پیغام جمہوریت کا نہیں، آزادی کا نہیں، بلکہ کھلی دھمکی اور عالمی غنڈہ گردی کا اعلان ہے۔ کیا یہ نظام ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے؟ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ بدمعاشی اور جبر پر قائم نظام زیادہ دیر نہیں چلتا۔ روم ہو یا برطانیہ، ہسپانیہ ہو یا سوویت یونین سب اپنی طاقت کے نشے میں یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناقابل ِ شکست ہیں۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، زوال اتنا ہی قریب آ جاتا ہے۔

آج خود امریکا کے اندر ان سامراجی پالیسیوں پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک دنیا بھر میں جنگیں لڑی جائیں گی؟ کب تک انسانی حقوق کا دوہرا معیار اپنایا جائے گا؟ کب تک ٹیکس دہندگان کا پیسہ خون، بمباری اور تباہی پر خرچ ہوگا؟ یہ سوال اس بات کا ثبوت ہیں کہ خود سامراجی طاقت کے اندر بھی اس نظام کے خلاف بے چینی اور مزاحمت جنم لے رہی ہے۔

ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آج دنیا بھر کی انسانیت دوست، قانون پسند اور آزاد سوچ رکھنے والی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ وینزویلا کے معاملے میں خاموش نہ رہیں۔ یہ صرف ایک صدر یا ایک ملک کا مقدمہ نہیں۔ یہ ریاستی خودمختاری کا مقدمہ ہے، یہ بین الاقوامی قانون کا مقدمہ ہے اور یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر آج وینزویلا خاموشی سے کچلا گیا، تو کل کوئی اور ملک ہوگا، اور پرسوں شاید ہم خود۔ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

وینزویلا ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ نوآبادیاتی نظام مرا نہیں، وہ صرف زیادہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ اب اس کے چہرے سے جمہوریت اور انسانی حقوق کا نقاب اتر چکا ہے، اور اس کا اصل چہرہ طاقت، لالچ اور جبر سب کے سامنے آ چکا ہے۔ اور تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بالآخر طاقت بن جاتی ہیں۔ فیصلہ دنیا کو کرنا ہے: کیا وہ قانون کے ساتھ کھڑی ہوگی، یا طاقت کے ساتھ؟

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی نوا بادیاتی طاقت کے رہا ہے چکا ہے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار