مین ہول میں بچہ گرنے کاکیس‘میئر ‘ٹائون چیئرمین ودیگر طلب
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر کم سن ابراہیم کے جاں بحق ہونے پرمیئر کراچی ، ٹاؤن چیئرمین، واٹر بورڈ اور بی آر ٹی کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست پر میئر کراچی اور دیگر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کر لیے۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعہ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر کم سن ابراہیم کے جاں بحق ہونے پرمیئر کراچی ، ٹاؤن چیئرمین، واٹر بورڈ اور بی آر ٹی کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت درخواست گزار شیخ ثاقب احمد ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے۔ درخواست گزار کااپنے دلائل میں کہنا تھاکہ ایک جرم ہوا ہے پولیس کو سیکشن 154 کا بیان لے کر مقدمہ درج کرنا چاہیے، پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ والدین قانونی کاروائی نہیں چاہتے، لیکن سپریم کورٹ کہتا ہے کہ اگر جرم ہوا ہے تو کوئی بھی شخص اس پر مقدمہ کروا سکتا ہے، معافی تلافی بھی ہو تو وہ سیکشن 345 کے تحت ہوتی ہے مقدمے اندراج کے بعد، مقدمے میں قتل بالسبب کے ساتھ قتل عمد کی سیکشن 302 بھی لگانا چاہیے، مارنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن فریقین کو معلوم تھا اس عمل سے کسی کی جان جا سکتی ہے، اگر یہ موقف اپناتے ہیں کہ ڈھکن لگایا تھا لیکن وہ ہیروئنچی لے گئے، لیکن یہ انکا فرض ہے کہ ڈھکن لگانے کے بعد اس کا خیال بھی کیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر میئر کراچی اور دیگر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔ قبل ازیں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیاگیا تھاکہ کم سن ابراہیم نجی سپر اسٹور کے سامنے کھلے گٹر میں گر کر جان بحق ہو گیا تھا،متوفی کی لاش 15 گھنٹے کے بعد نکالی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست گزار عدالت نے ہونے پر
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔