تھیٹرز سے متعلق ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
لاہور کی انتظامیہ نے پنجاب کونسل آف دی آرٹس کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے تھیٹرز سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری مراسلے میں پنجاب کونسل آف دی آرٹس کو تھیٹرز میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر نئی پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مراسلے میں واضح کیا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر اب صرف مشترکہ رپورٹ قابل قبول نہیں ہوگی اور اداکاروں یا تھیٹر انتظامیہ کو براہ راست نوٹس دینا بھی پالیسی کے خلاف ہوگا۔
بھارت میں معروف گلوکار دیوالی کے لائیو کنسرٹ میں اسٹیج پر گرکر ہلاک
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی معاملے پر سینسر ریہرسل پینل اور مانیٹرنگ ٹیم کی مشترکہ رپورٹ لازمی ہوگی جبکہ خلاف ورزی کی رپورٹ ڈی سی آفس کو لازمی بھجوائی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر رپورٹ کسی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کو سفارشات کے ساتھ رپورٹ بھیجنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
مراسلے میں پنجاب حکومت کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے عندیہ دیا گیا ہے کہ تھیٹرز کے خلاف کارروائی بلاتفریق اور قانون کے مطابق کی جائے گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مراسلے میں گیا ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔